menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muskurahat Jo Aaj Bhi Yaad Hai

18 0
11.08.2026

مسکراہٹ جو آج بھی یاد ہے

اگست کا مہینہ آتے ہی دل بے اختیار ماضی کی تلخ یادوں میں کھو جاتا ہے۔ 7 اگست 2002ء، بروز اتوار، وہ المناک دن تھا جب ہمارے مہدی آباد کے خوبصورت، خوش اخلاق، باوقار اور ہر دل عزیز نوجوان علی محمد گلگت سے اسکردو آتے ہوئے شنگوس کے مقام پر مبسم اللہ موڑ کے قریب ایک دردناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے اور ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگئے اگرچہ اس سانحے کو چوبیس برس گزر چکے ہیں، لیکن اس حادثے کا دل خراش منظر آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔

علی محمد کی دل موہ لینے والی مسکراہٹ، ان کا خلوص، محبت اور اپنائیت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ ایسی شخصیت تھے جنہیں بھلانا ممکن نہیں، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ہر ایک کا خیال رکھتے تھے اور اپنی محبت و خوش اخلاقی سے سب کے دل جیت لیتے تھے علی محمد مرحوم نہایت نفیس مزاج انسان تھے۔ وہ ہمیشہ صاف ستھرے، عمدہ لباس، پینٹ شرٹ اور بہترین پوشاک میں ملبوس رہتے تھے۔ ان کا رہن سہن، اندازِ زندگی اور شخصیت دوسروں........

© Daily Urdu