menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Saudi Arab Ka Aman, Khaleej Ka Istehkam

28 0
28.09.2026

سعودی عرب کا امن، خلیج کا استحکام

سعودی عرب کا امن آج صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں رہا۔ حرمین شریفین کی نسبت اسے پوری امتِ مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، جبکہ اس کی جغرافیائی حیثیت، معاشی قوت اور علاقائی اثر و رسوخ اسے خلیج کے استحکام کا بھی اہم حصہ بناتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی گہری دینی وابستگی ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے سعودی عرب پہنچتے ہیں، اس لیے وہاں امن و سلامتی کا قیام ایک ایسی ضرورت ہے جس سے پوری امت کا جذباتی تعلق ہے۔

موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بحران دوسرے بحران سے جڑا ہوا ہے۔ یمن کا تنازع، بحیرۂ احمر میں کشیدگی، خلیجی سلامتی کے مسائل اور علاقائی طاقتوں کے درمیان اختلافات نے پورے خطے کو حساس بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کی سلامتی کو صرف اس کی سرحدوں تک محدود کرکے دیکھنا درست نہیں۔ سعودی عرب میں پیدا ہونے والی بڑی کشیدگی خلیج کے سیاسی ماحول، توانائی کی ترسیل، تجارت اور علاقائی تعلقات کو متاثر کرسکتی ہے۔

سعودی عرب پر حملوں اور اس کی شہری یا معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا معاملہ اسی لیے تشویش کا باعث بنتا ہے کہ اس سے ایک مخصوص تنازع کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور شہریوں کا تحفظ بنیادی حق ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ عسکری کارروائیوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کا مستقل حل صرف مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ جہاں دفاع ضروری ہے وہاں سیاسی اور سفارتی راستے بھی کھلے رہنے چاہییں۔

یمن کی صورتِ حال اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ ایک طویل جنگ نے یمنی عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک پہنچے۔ اس بحران کا کوئی ایسا حل نہیں جو صرف عسکری اقدامات تک محدود ہو۔ یمنی فریقوں کے درمیان سیاسی مذاکرات، علاقائی ممالک کی سنجیدہ کوششیں اور ایک قابلِ عمل سیاسی عمل ہی وہ راستہ ہے جس سے اس تنازع کو مستقل طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔ جنگ کا خاتمہ صرف فائرنگ رکنے کا نام نہیں اصل کامیابی اس........

© Daily Urdu