Dark Energy
کائنات پھیل رہی ہے، یہ بات تقریباً ایک صدی پہلے معلوم ہو چکی تھی، مگر 1990 کی دہائی کے آخر میں دور دراز سپرنووا کے مشاہدات نے اس پھیلاؤ کے بارے میں ایک ایسی حقیقت سامنے رکھی جس نے پوری کاسمولوجی کو ہلا دیا۔ ماہرینِ فلکیات نے دیکھا کہ کائنات کا پھیلاؤ وقت کے ساتھ سست ہونے کے بجائے تیز ہو رہا ہے۔ اس دریافت کا مطلب تھا کہ کائنات میں کوئی ایسا عامل موجود ہے جو بڑے پیمانے پر کششِ ثقل کے اثر کے مقابل ایک ایسا کردار ادا کر رہا ہے جس سے کائناتی پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے۔ اس نامعلوم عامل کو ڈارک انرجی کا نام دیا گیا۔ یہ نام کسی تاریکی یا کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ نہیں کرتا جس کا رنگ کالا ہو، بلکہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ہم اس کی اصل ماہیت سے اب تک واقف نہیں۔
بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں مادہ اور تابکاری بہت زیادہ کثیف تھے۔ کششِ ثقل مادے کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی تھی، اس لیے ابتدائی توقع یہی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ کائنات کا پھیلاؤ بتدریج سست ہوتا جائے گا۔ لیکن جب ماہرین نے بہت دور موجود سپرنووا کی روشنی کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دور دراز کہکشائیں جس رفتار سے ہم سے دور ہو رہی ہیں، اس سے اندازہ ہوا کہ کائنات کسی وقت سست پھیلاؤ سے گزرنے کے بعد ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں پھیلاؤ تیز ہونے لگا۔ اس دریافت نے کائنات کے تقریباً پورے ارتقائی تصور میں ایک نامعلوم جزو شامل کر دیا۔
ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی ایک ہی چیز نہیں۔ ڈارک میٹر کششِ ثقل کے ذریعے کہکشاؤں اور کہکشانی جھرمٹوں کی ساخت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ڈارک انرجی کا تعلق کائنات کے بڑے پیمانے پر........
