menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pims Saniha, Jeene Aaye Thay, Mar Kar Chalay Gaye

24 0
30.08.2026

پمز سانحہ، جینے آئے تھے، مر کے چلے گئے

وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

قابل اجمیری نے جانے عرفان کے کس لمحے یہ شعر کہا کہ ہم ایسے زوال زدہ اور الزام و دشنام کے دلدادہ لوگوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ اسلام آباد کے سب سے معروف اور بڑے پمز اسپتال میں بھڑکنے والی آگ نے 14 نوزائیدہ بچوں کی سانسیں کھینچو لیں۔ یہ واقعہ اس قدر دلدوز اور المناک تھا کہ لواحقین کی آہ و بکا اور بین سننے کا یارا نہ تھا۔

حسبِ معمول اس موقع پر فوراً الزامات، سیاست اور دشنام کاری کا الاؤ بھی اسی شدت کے ساتھ برپا ہوگیا۔ یوں ساتھ ہی روایتی کمیٹیاں، معاوضوں کے اعلانات اور"کسی کو نہیں چھوڑیں گے" کے کھوکھلے دعوؤں سے الزامات کے شعلے ٹھنڈے کرنے کا عمل بھی پوری سرگرمی سے جاری ہوگیا۔

اس تازہ ترین سانحے نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت ثابت کی ہے کہ ہمارے اسپتال انتظامی اور حفاظتی اعتبار سے انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہماری اجتماعی گورننس اور بے حسی کے لیے یہ کوئی انہونی بات نہیں۔

یوں کچھ ہی عرصے بعد ایک اور بھیانک سانحہ جنم لیتا ہے، دھواں اٹھتا ہے، چیخ و پکار ہوتی ہے، پریس کانفرنسیں کی جاتی ہیں، انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، چند ہی دنوں میں پھر سب کچھ پہلے کی طرح معمول پر رواں دواں ہو جاتا ہے۔

جب پمز جیسے وفاقی دارالحکومت کے وی آئی پی اسپتال میں ایسا خوفناک سانحہ ہو سکتا ہے، تو صوبائی یا دور افتادہ اضلاع کے ہیلتھ کیئر اداروں کی اندرونی صورتحال کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ دو سال قبل ایسا ہی ایک تباہ کن سانحہ ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں بھی پیش آیا تھا، جب کہ اکا دکا واقعات کئی دیگر اسپتالوں میں بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ہر جگہ ایسے المیے کا اسکرپٹ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ سانحے کے بعد کوئی بھی مجرم اور حقیقی ذمے دار اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتا۔ جب ایک کے بعد ایک ہولناک واقعہ ہوتا ہے اور ذمے داروں کا تعین ہو پاتا ہے نہ سزا ملتی ہے، تو اگلے تباہ کن حادثے کی بنیاد آپ سے آپ رکھی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک اور ہولناک سانحہ محض وقت........

© Daily Urdu