menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mufti Shamail Nadwi Bamuqabla Javed Akhtar

8 27
26.12.2025

سچائی کا وہ آئینہ جب اسکرین کے اسکرپٹ رائٹر کے سامنے کائنات کے اسکرپٹ رائٹر کا علم کھل کر سامنے آیا، یہ وہ لمحہ تھا جب فلمی دنیا کی چکاچوند اور سلیبریٹی کی جادوگری، قرآن، منطق اور فلسفہ کے اصولوں کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔ ہندوستان کی سرزمین پر ہونے والا یہ مکالمہ محض دو شخصیات کے تصادم کی کہانی نہیں، بلکہ دو متوازی نظریاتی کائناتوں کا تقابل تھا۔ ایک طرف فلمی اور لٹریچر کی دنیا کا شہنشاہ، جاوید اختر، جس نے الفاظ اور مکالمات کے جادو سے کروڑوں دلوں کو مسحور کیا اور دوسری طرف وہ مردِ قلندر، مفتی شمائل ندوی، جس کے پاس قرآن، فلسفہ اور منطق کے ہتھیار تھے۔

یہ تاریخی ملاقات اس بات کی روشن مثال ہے کہ علم، عقلیت اور حقیقت کی طاقت، کسی بھی باطل کی چرب زبانی، شہرت اور اورا کے سامنے عاجز ہو جاتی ہے۔

جاوید اختر کوئی عام ملحد یا دانشور نہیں ہیں۔ وہ ایک سلیبریٹی دانشور ہیں، جس کے ہر لکھے ہوئے مکالمے پر کروڑوں لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس کی شخصیت کا رعب، اورا اور میڈیا میں شہرت اکثر عام اسکالرز کو مرعوب کر دیتی ہے۔

لیکن مفتی شمائل ندوی یہاں ایک مستحکم چٹان کی مانند کھڑے نظر آئے۔ ان کے دل میں یہ یقین راسخ تھا کہ عزت و ذلت، حیات و موت، سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے جس کے لیے دلیل پیش کی جا رہی ہے۔ یہی وہ توحیدی طاقت ہے جو کسی بھی انسانی رعب کو کمزور کر دیتی ہے۔

مفتی صاحب نے جاوید اختر کی انا کو چیلنج کرنے کی بجائے، ان کے علمی موقف کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ یہ پہلی نفسیاتی فتح تھی: سکون، وقار اور علم کے ساتھ باطل کی شان و شوکت کو معمولی ثابت کر دینا۔

اکثر ملحدین کے ساتھ براہِ راست دلیل میں الجھنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ مفتی شمائل نے سقراطی طریقہ اپنایا: جواب دینے کے بجائے سوالات اٹھا کر مخاطب کی علمی کمزوری........

© Daily Urdu