Dr. Aafia Siddiqui Ki Rehai: Mumkinat, Rukawaten Aur Riyasti Sanjeedgi
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا سوال محض ایک قیدی کی آزادی تک محدود نہیں رہا، یہ سوال اب ریاستی سنجیدگی، عالمی انصاف، انسانی حقوق، مسلم دنیا کی اخلاقی قوت اور طاقت و قانون کے باہمی تعلق کی علامت بن چکا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اس معاملے کا غیر جذباتی، مگر گہرا اور ہمہ جہتی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی نہ تو محض نعروں سے ممکن ہے اور نہ ہی رسمی بیانات سے، بلکہ اس کے لیے بیک وقت سفارتی، قانونی، سیاسی اور اخلاقی محاذوں پر غیر معمولی اور مسلسل جدوجہد درکار ہے۔
امریکی عدالتی نظام میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جن الزامات کے تحت سزا دی گئی، وہ الزامات اپنی نوعیت میں متنازع ضرور ہیں مگر قانونی طور پر امریکہ کے اندر حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے نظر انداز کرکے کوئی بھی سنجیدہ حکمتِ عملی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ امریکہ میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو محض فوجداری کیس نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مقدمات سمجھا جاتا ہے اور ان میں سیاسی یا عوامی دباؤ عموماً فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر پاتا۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا سب سے مؤثر راستہ امریکی داخلی قانونی فریم ورک کے اندر ہی تلاش کرنا ہوگا۔
یہاں حکومتِ پاکستان کا کردار فیصلہ کن ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں ریاستی سطح پر جو کوششیں ہوئیں، وہ زیادہ تر علامتی رہیں۔ کبھی کمیٹی بنا دی گئی، کبھی عدالتی سماعت میں "کوششیں........
