Khaima Basti
گزشتہ ماہ بغرض سیاحت اردن کے دارالحکومت عمان جانے کا اتفاق ہوا، سعودی عرب سے اردن کی سرحد عبور کرنے کے تقریباً ایک سو کلومیٹر بعد سڑک کے بائیں جانب دور تک پھیلی وسیع عارضی خیمہ بستی نظر آئی، کئی ایکڑ رقبے پر سولر پینلز کا نظام بھی نصب تھا، ڈرائیور نے بتایا کہ یہ شامی مہاجرین کے لیے قائم کی گئی بستی ہے، دل میں کئی سوالات پیدا ہوئے، شام اور اردن کے درمیان محض ایک سرحد کا فاصلہ ہے، زبان، مذہب، ثقافت اور خاندانی روایات بارے دونوں معاشروں میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے، پھر یہ لوگ اپنے ہی خطے کے ایک نسبتاً ویران گوشے میں خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہیں؟
میرے استفسار پر ڈرائیور کے جواب نے علامہ لڈن جعفری مرحوم کو سچا سمجھنے پر مجبور کیا کہ ہم نے تم سے دُوری اختیار کی، تم ہمارے ہاں چار دیواری میں داخل نہیں ہو سکتے، ہم تم کو اپنے برابر کا نہیں سمجھتے، خس کم جہاں پاک، نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی، میرے ذاتی مشاہدے کے مطابو مسلم دنیا میں سب سے زیادہ امریکہ مخالف جذبات اردنی لوگوں میں پائے جاتے ہیں لیکن ڈرائیور کے مطابق اردن کے لوگ مذہبی جذبات کے اس خمار سے باہر نکل رہے ہیں جس میں ہر مسئلے کا جواب صرف جذباتی نعروں اور جنگ کی صورت میں تلاش کیا جاتا ہے، دنیا بھر میں مسلمان اسرائیل کے خلاف لڑنے کی بات کرتے، احتجاج کرتے اور دوسروں کو مزاحمت کا درس دیتے ہیں، لیکن اس کشمکش کی بھاری قیمت اکثر اردن جیسے ہمسایہ ممالک کو ادا کرنا پڑتی ہے، اس کا ایک جملہ میرے ذہن میں نقش ہوگیا:
"دور بیٹھ کر نعرے لگانا اور بندوق کے سامنے کھڑے ہونا، دونوں میں بہت فرق ہے، ہم نے بہت سے جوانوں کے جنازے اٹھائے ہیں، اب ہم تھک چکے ہیں۔ "
اس کی بات و........
