Lahore Ka Raja, Frankfort Ka Khazanchi
لاہور کا راجہ، فرینکفرٹ کا خزانچی
نیویارک کی ایک روشن صبح تھی۔ ٹائمز اسکوائر کی فلک بوس عمارت کے سامنے ایک سرخ ڈوکاٹی موٹر سائیکل آ کر رکی۔ سیاہ چمڑے کی جیکٹ اور بائیکر بوٹ پہنے ایک شخص اترا اور عمارت میں داخل ہوگیا۔ لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے رہے۔ اس کی بغل میں کوئی بریف کیس نہیں تھا، بس موٹر سائیکل کا ہیلمٹ تھا۔
وہ امریکہ کے بڑے بینک مورگن اسٹینلے کا نائب سی ایف او تھا۔ اپنے بارے میں کہتا تھا، "میں ضرورت سے زیادہ خطرہ اٹھانے والا بندہ ہوں۔ نو خطرہ، نو انعام"۔
مگر یہ کہانی نیویارک سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ کہانی لاہور سے شروع ہوتی ہے۔
راجہ جواد اکرم لاہور میں پلا بڑھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں مری کی پہاڑیوں میں گزرتیں، جہاں چھ گھنٹے کی مسافت پر خاندان کی پرانی کوٹھی تھی جسے سب ڈنگلے ڈیل کہتے تھے۔ ٹھنڈی ہوا، اونچے درخت اور کزنوں کا پورا ٹبر۔ گھر کا اصل مرکز مگر ایک دادی تھیں، بیگم اختر اکرم۔ ان کا اصول سیدھا سا تھا۔ جو تمہارے کاروبار میں کام کرے، اس کے بچوں کی تعلیم تمہاری ذمہ داری ہے۔
انیس سو بانوے میں ایچیسن میں پڑھنے والا سترہ برس کا یہ لڑکا امریکہ جانے والے جہاز میں بیٹھ گیا۔ منزل ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی تھی جسے اس نے کبھی آنکھ سے دیکھا تک نہ تھا۔ اسکول کی کونسلر نے بس اتنا کہا تھا، "یہ یونیورسٹی جنوب مغربی امریکہ کی ایم آئی ٹی کہلاتی ہے"۔ انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا۔ لڑکے نے ایک جملے پر بھروسا کیا اور داخلہ لے لیا۔
برسوں بعد اس کے دونوں بھائی بھی اسی کے نقشِ قدم پر اسی یونیورسٹی جا پہنچے۔ ایک لڑکے کا اندھا بھروسا پورے خاندان کا راستہ بن گیا۔
منصوبہ سادہ تھا۔ کاروبار کی ڈگری لو، لاہور لوٹو، والد کا جائیداد کا کاروبار سنبھالو........
