menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Saleebain Apni Apni

43 0
01.09.2026

یہ کتاب پڑھنا شروع کی تو بہت مزہ آ رہا تھا لیکن جب آدھی پڑھ لی اور کہانی جیسے جیسے آگے بڑھی میری الجھن بڑھتی گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا معاشرے میں ایسے کردار واقعی ہوتے ہیں یا ایسے کردار تخلیق کرنے پر مصنف کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے؟

ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ صاحب کا ناول "صلیبیں اپنی اپنی" عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا ہے۔ صلیبیں اپنی اپنی ایک استعارہ ہے کہ ہر کسی کو اپنے دکھوں کا بوجھ خود ہی ڈھونا پڑتا ہے۔ 430 صفحات کے اس ناول میں ساٹھ کی دہائی کی کہانی بیان کی گئی جس کے زیادہ تر کردار مسیحی ہیں۔ ناول کو چھوٹے چھوٹے ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر باب کا آغاز بائبل کی آیت سے ہوتا ہے میرے خیال میں یہ اردو ناول میں ایک نیا تجربہ ہے۔

پاکستان بننے کے بعد ابتدائی بیس برس پاکستان کا سنہری دور تھا جب معاشرہ روشن خیال، پرامید اور تعصبات سے پاک تھا۔

ناول کے شروع سے آخر تک تجسس کی فضا برقرار رہتی ہے اور ٹھنڈی میٹھی خوشگوار نثر آپ کو بور نہیں ہونے دیتی۔ ناول میں جہاں کچھ کلاسک گیتوں اور دھنوں کا ذکر ہوا ہے وہاں مصنف نے باب کے اختتام پر ان دھنوں کے لنک بھی فراہم کیے ہیں تاکہ قاری اگر سننا چاہے تو اسے تلاش کرنے میں مسئلہ نہ ہو۔

ناول کی کہانی مرکزی کردار مریم کے گرد گھومتی ہے۔ مریم کی ماں ایک سکول میں استانی تھی اور باپ بھی پڑھا لکھا تھا مگر اسے نشے کی لت لگ گئی۔ نشے کی وجہ سے ملازمت چلی گئی، قرض ملنا بند ہوگیا، گھر کی چیزیں بکنے لگیں اور اس نے مریم کی ماں سے سکول کی تنخواہ سے بھی پیسے مانگنا شروع کر دیے۔ میاں بیوی میں جھگڑا رہنے لگا اور وہ مریم کی ماں کو........

© Daily Urdu