menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khabren Nashar Karne Walon Ki Khabar Lijye

13 6
01.02.2026

خوشی کی خبر ہے کہ کچھ نشریاتی اداروں نے اُردو خبروں میں انگریزی کی جگہ اُردو الفاظ و اصطلاحات کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اب اُردو زبان میں خبریں پیش کرتے ہوئے وہ اُردو کے جملوں میں انگریزی کی مضحکہ خیز پیوند کاری سے کسی قدر گریز کرنے لگے ہیں۔ مثلاً ایک ٹی وی چینل سے نشر ہونے والی اُردو خبروں میں "Growth Rate" کی جگہ "شرحِ نمو"، "Subsidy"کی جگہ "امدادی رقم" اور "Compensation" کی جگہ " تلافی" کی تراکیب اور الفاظ سن کر جی خوش ہوگیا۔ دیکھیے تلافی، جیسے سبک اور رواں الفاظ بھی عدم استعمال سے تلف ہونے لگے تھے۔ اب شاید معافی تلافی ہوجائے۔ تلافی، کے معنی تدارک، عوض اور بدل ہیں۔ حکیم مومن خان مومنؔ کہتے ہیں:

اگر غفلت سے باز آیا، جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

جن نشر گاہوں (یعنی ٹی وی چینلوں) نے اُردو خبروں میں اُردو الفاظ اور اُردو تراکیب کے استعمال پر توجہ دینا شروع کیا ہے، اُن کی خبروں کا معیار بہتر ہوا ہے اور اِن اداروں کا وقار بڑھا ہے۔ اِن گنے چنے چند چینلوں کے شعبۂ خبر میں موجود جس فرد نے بھی اس کام کا بِیڑا اُٹھایا ہے وہ شکریے اور مبارک باد کا مستحق ہے۔ ایسے فرد یا ایسے افراد کو ادارے کی طرف سے تعریفی اسناد ملنی چاہییں۔ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ وہ انعام کے حق دار ہیں کہ اپنے چینل کو ناقص زبان کا شہکار اور نشرکار بننے سے بچا رہے ہیں۔ معیار بڑھا رہے ہیں۔

اُردو نشریات میں جو لوگ فرفرفرفر انگریزی بولتے رہتے ہیں وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ اُن میں اُردو نشریات پیش کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔ ناحق آگئے۔ اُنھیں ابھی اُردو الفاظ سیکھنے کی ضرورت تھی۔ سیکھ کر آتے تو اُردو ہی بولتے۔ اُن کی یہ نااہلی یا کم اہلی ادارے کے منتظمین کی نالائقی کا اشتہار بن جاتی ہے، جنھیں علم ہی نہیں کہ اُردو نشریات کے لیے کیسے افراد کا انتخاب کرنا چاہیے۔

مشہور مقولہ ہے "ناواقفیت کوئی عذر نہیں"۔ سڑک کے چوراہے پر اشارہ توڑ بیٹھنے والا شخص اگر عذر پیش کرے کہ وہ اشارہ سرخ ہوجانے........

© Daily Urdu