menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sehra Sehra Ishq o Janoo Hai

17 0
06.08.2026

صحرا صحرا عشق و جنوں ہے

جناب راج کمار سے میرا تعلق کوئی ساڑھے چھ سال پرانا ہے۔ یہ الگ بات کہ آج ان سے پہلی بار ان کی صورت دیکھ رہا ہوں، ورنہ اس سے پہلے ٹیلی فون، ای میل اور انٹرنیٹ کے ڈسکشن بورڈز کے ذریعے ہی رابطہ تھا۔

اکتوبر 2001 میں پہلی بار جب میں نے انٹرنیٹ پر الوپ نامی اردو شاعری کے فورم پر راج کمار صاحب کی شاعری اور ان کی دوسری تحریریں پڑھیں، تو ان کا جو تصور میرے ذہن پر ابھرا، وہ ایک کھلنڈرے اور لا ابالی نوجوان کا تھا۔ ایک ایسا نوجوان جو ہنسی ہنسی میں کوئی گہری بات کہہ دیتا ہے اور پھر کونے میں کھڑا ہو کر تماشا دیکھتا رہتا ہے۔

جب بہت عرصے بعد کسی نے بتایا کہ موصوف خیر سے ساٹھ کے پیٹے میں ہیں تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔

تاہم اس تعلق کے باوجود ان کی شاعری پر لکھنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ میں جدید شعر و سخن کا دل دادہ تھا اور وہ روایتی شاعری کے جانشین۔ اس پس منظر کے ساتھ جب میں جب میں نے راج کمار قیس صاحب کی شاعری پڑھنا شروع کی تو ابتدا میں ذہن پر کوئی بہت اچھا تاثر مرتسم نہیں ہو سکا کیوں کہ اس میں مجھے وہی لگے بندھے روایتی مضامین اور پرانا انداز بیان نظر آتا تھا، جو دورِ جدید میں متروک ہو چکا تھا۔

صحرا صحرا، کے پیش لفظ میں جناب ولی عالم شاہین صاحب نے بھی یہی بات دہرائی ہے کہ اپنی غزل اور اسلوب میں انھوں نے کسی قسم کے انحراف کو روا نہیں رکھا۔ حتی کہ انھوں نے اپنے دیوان کی ترتیب بھی ردیف کے الف بائی نظام کے تحت رکھی ہے۔ یعنی ان کی پہلی غزل کی ردیف الف ہے اور آخری غزل ی پر ختم ہوتی ہے۔ حالاں که آج کل شعرا اپنی کلام کو زمانی ترتیب سے پیش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

خود راج کمار صاحب اعتراف کرتے ہیں:

مجھ سے جدیدیت کی امیدیں، خدا پناہ میں قیس ہوں، جہانِ کہن کا نشاں ہوں میں

تاہم ایک دن ان کا ایک شعر نظر آیا جس نے مجھے ان کا نوٹس لینے پر مجبور کر دیا اور وہ شعر تھا:

یہ خدا کے بھی بس کی نہیں تھی ایسی تصویر ہے کس نے بنائی

اس کے بعد میں نے ان کے کلام کا نسبتاً زیادہ سنجیدگی سے مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور اسی دوران مجھ پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ کئی عشروں سے دیارِ غیر میں مقیم ادبا کا موازنہ ادبی مراکز کے دھارے میں موجود ادبا سے نہیں کیا جا سکتا۔

قیس صاحب کی ادبی تربیت پچاس کی دہائی میں ہوئی ہے، اس لیے ان کا مطالعہ اسی دور کے ادبی اصولوں اور معیاروں کو سامنے رکھ کر کرنا پڑے گا، نہ کہ عہدِ حاضر کے جدید تقاضوں کی روشنی میں۔

اور یہ وہ زمانہ تھا جب جگر، فراق، حسرت موہانی، شکیل بدایونی وغیرہ کا طوطی بولتا تھا اور غزل کی روایت میر و مرزا کا کلاسیکی دور سے تو باہر آچکی تھی تاہم ابھی وہ روایت سے پوری........

© Daily Urdu (Blogs)