menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran, Israel, America Mumkina Jang

25 1
15.01.2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بتایا ہے کہ مظاہروں میں دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت سرکاری اہلکاروں کی بتائی جا رہی ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کی تازہ ٹویٹ نے حسبِ روایت آگ میں پیٹرول کا کام کیا ہے۔ اشارہ صاف ہے "ایران، تیار ہو جاؤ" اور تیار تو ویسے بھی سب ہیں۔ واشنگٹن میں ہتھیار ساز، تل ابیب میں منصوبہ ساز اور مشرق وسطیٰ میں قبریں کھودنے والے۔

قطر میں موجود امریکی اڈے کو سینٹرل کمانڈ میں بدل دیا گیا ہے۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جو عالمی فورمز پر جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لیتا ہے مگر جب کیمرہ بند ہوتا ہے تو انگلی ہمیشہ بندوق پر ٹریگر کے قریب رہتی ہے۔ ویسے بھی امریکی معیشت میں اگر کسی شے کا مستقل کردار ہے تو وہ جنگ، اسلحہ اور تابوتوں کی برآمد ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار اخراجات اسرائیل اٹھانے کو تیار ہے۔ یعنی جنگی لباس امریکی ہوگا، بل اسرائیلی اور لاشیں ایرانی۔

اہداف میں آیت اللہ کی تبدیلی شامل ہے۔ لیکن کیسے؟ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم مگر منصوبہ بندی میں یہ کمی کبھی مسئلہ نہیں بنی۔ عراق میں بھی یہی اعتماد تھا، افغانستان میں بھی اور انجام سب کے سامنے ہے۔

اُدھر ایران نے وقتی طور پر پرتشدد مظاہروں پر قابو پا لیا ہے۔ پچھلے تین دنوں سے سڑکیں نسبتاً خاموش ہیں اور دو دن سے حکومت کے حق میں بڑے بڑے جلوس بھی نکل رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ٹرمپ کو اچانک ایرانی عوام سے محبت جاگ اٹھی ہے۔ فرمان جاری ہو چکا ہے "باہر نکلو، اداروں پر قبضہ کرو، امریکا مدد کے لیے آ رہا ہے"۔ یہ وہی مدد ہے جو جہاں بھی پہنچی، وہاں نقشے بدل گئے، ریاستیں ٹوٹیں اور نسلیں دربدر ہوئیں۔

امریکی منصوبہ ساز شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایران کوئی خالی پلاٹ نہیں۔ وہاں کم از کم تیس لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں مذہبی نمائندہ حکومت سے براہِ راست منسلک ہیں........

© Daily Urdu (Blogs)