Kashtiyan Jalao, Kitab Uthao
کشتیاں جلاؤ، کتاب اٹھاؤ
زیر نظر مضمون کو صفحہ قرطاس کرتے وقت مجھے سعادت حسن منٹو کے افسانوں پر لگائے گئے جنسی الزامات یاد آئے۔ یہ ڈر لگا کہ خاکم بہ دہن مجھ پر بھی ارد گرد سے فتووں کی بارش نہ ہو جائے یا میرے کمزور شانے موٹی لاٹھیوں کی زد میں آکر مجھے قبل از وقت مار نہ ڈالیں یا پھر کہیں مجھ پر توہین مذہب کا پرچہ نہ کٹ جائے۔
معاملہ بہ ظاہر چھوٹا سہی، مگر سنگین ضرور ہے۔ اس پر کچھ نہ لکھنا ایک صحت مند معاشرے کی بقا کے خلاف غداری سمجھتا ہوں۔ اتنا تو ہر کوئی جانتا ہے کہ معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے۔ اگر فرد کی تربیت بیمار ہو تو معاشرہ تنزل کی طرف بہ آسانی گامزن ہوسکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دریا کا روکنا اتنا دشوار نہیں جتنا کہ ایک بگڑے ہوئے معاشرے کو راہ راست پر لانا ہے۔
پانی میں ہے آگ لگانا دشوار بہتے دریا کا پھیر لینا دشوار
دشوار سہی، مگر نہ اتنا دشوار بگڑی ہوئی قوم کو بنانا دشوار
یہ کہنا بجا ہوگا کہ مذہب، سیاست اور ادب معاشرے کے تین اہم ستون ہیں۔ مذہب معاشرے کو روحانی غذا فراہم کرنے اور سیاست بلا تفريق مادی ضروریات اور وسائل فراہم کرنے کی ضامن ہے۔ ادب ان غذاٶں، ضروریات اور وسائل کے درست استعمال پر کھڑی نظر رکھتا ہے۔........
