Gumshuda Chiragh
بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ آسمان پر بادل ایسے تیر رہے تھے جیسے کوئی تھکا ہوا قافلہ سفر کے بعد آرام کر رہا ہو۔ گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں بارہ سال کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کا نام مریم تھا۔ اُس کی آنکھیں صبح کے ستارے کی طرح چمکتی تھیں، مگر اُن میں ہمیشہ ایک اداسی تیرتی رہتی تھی۔
مریم اپنی ماں زبیدہ کے ساتھ رہتی تھی۔ زبیدہ گاؤں کی امیر عورتوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ اُس کے کپڑے ہمیشہ صاف ہوتے مگر دل میں جیسے کوئی اندھیرا چھپا رہتا۔ مریم جب بھی اپنے باپ کے بارے میں پوچھتی تو زبیدہ کی آنکھیں پتھر بن جاتیں۔
"تمہارے ابو بہت پہلے مر گئے تھے"۔
مریم خاموش ہو جاتی لیکن اُس کا دل مانتا نہ تھا۔ اُسے لگتا جیسے کہیں نہ کہیں اُس کا باپ زندہ ہے۔ رات کو جب چاند کھڑکی سے جھانکتا تو مریم سوچتی کہ اُس کا باپ بھی شاید اسی چاند کو دیکھ رہا ہوگا۔
ایک دن مریم گھر کے کمرے میں پرانی چیزیں ڈھونڈ رہی تھی۔ اچانک اُسے لکڑی کے صندوق میں ایک تصویر ملی۔ تصویر میں ایک آدمی اُسے اپنی بانہوں میں اٹھائے ہنس رہا تھا۔ اُس آدمی کی آنکھیں بالکل مریم جیسی تھیں۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا:
"میرے جگنو مریم کے لیے۔
مریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے پنجرے میں بند چڑیا پھڑپھڑا رہی ہو۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ گاؤں کی بوڑھی اماں اندر آئیں۔ اُنہوں نے تصویر دیکھی تو آہ بھری۔
"بیٹی، سچ........
