Falkiyat Ki Tareekh (16)
تیسری صدی قبل مسیح میں اسکندریہ علم کا ایسا مرکز بن چکا تھا جہاں مختلف تہذیبوں کا علمی سرمایہ ایک دوسرے سے مل رہا تھا۔ بابلیوں کے صدیوں پرانے فلکی ریکارڈ، یونانی ریاضی، مصری جغرافیہ اور مختلف خطوں سے آنے والے علماء کی تحقیقات ایک ہی جگہ جمع ہو رہی تھیں۔ اس ماحول میں فلکیات نے ایک نئی شکل اختیار کی۔
اسی علمی ماحول میں 276 قبل مسیح کے قریب شمالی افریقہ کے شہر سائرین میں اراتوستھینیز (Eratosthenes) پیدا ہوا۔ بعد میں وہ اسکندریہ کے عظیم کتب خانے کا نگران مقرر ہوا۔ وہ فلکیات دان، ریاضی دان، جغرافیہ دان، مؤرخ اور ادیب بھی تھا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مختلف علوم کو ایک دوسرے سے جوڑ کر مسائل کا حل تلاش کرتا تھا اور یہی انداز اسے اپنے زمانے کے دوسرے علماء سے ممتاز بناتا........
