Insan Aur Dar
زندگی جس رفتار سے چلتی ہے کبھی کبھار اس سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ زندگی کے لئے ڈرنا فطری بات ہے لیکن زندگی کی رفتار سے ڈرنا غیر معمولی بات ہے۔ رفتار کا انتخاب ہمارا خود کا ہوتا اور پھر خود کے انتخاب پر سوال اٹھا کے اسے تشکیکی نظروں سے دیکھنا انہونی سی لگتی ہے۔
لیکن ڈر ویسے کوئی انہونی نہیں بلکہ فطری ہی ہے کیوں کہ ازل سے انسان یہی ڈر تو سیکھتا آیا ہے، یہی ڈر تو وہ سکھاتا رہتا ہے، یہی ڈر تو وہ منتقل کرتا رہتا ہے۔ اسی ڈر کی تو وہ تبلیغ کرتا ہے، یہ ڈر اگر ختم ہو جائے تو زندگی زنجیروں کی قید سے آزاد ہو جائے گی لیکن پھر زندگی کو بھی قائل کرنا پڑے گا کہ وہ اب قید نہیں ہے بلکہ آزاد ہے اور شاید اس عمل کے لئے مزید کچھ زندگیاں درکار ہوگی اور ہمیں فی الحال فقط اک ہی ملی ہے اور اک زندگی میں ہم ڈر کے لشکرکے دو تین سپاہی ہی گرادے تو ہمیں گولڈ میڈل ملنا چاہیے۔
ڈر چھوٹا ہو یا بڑا اسے اگنور نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے قابو کرنا پڑتا ہے۔ ڈر منفی سوچنے، منفی عمل کرنے اور منفی ردعمل دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انسان اکثر مستقبل قریب........
