menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

28 January

17 1
26.01.2026

تاریخ بعض اوقات خاموشی سے فیصلہ کن موڑ لیتی ہے۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو سرکاری کیلنڈروں میں جگہ نہیں پاتے، مگر قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے رہتے ہیں۔ 28 جنوری بھی ایسا ہی ایک دن ہے، ایک ایسا دن جسے اگر وقت پر نہ سنا جاتا، تو شاید آج ہم صرف ایک اقلیت ہوتے، ایک ہجوم میں گم شناخت، ایک ایسی قوم جس کا کوئی سیاسی، تہذیبی اور دینی تحفظ نہ ہوتا۔

28 جنوری 1933ء کو ایک شخص نے، جو نہ کسی تخت پر بیٹھا تھا اور نہ کسی فوج کا سالار تھا، برصغیر کے مسلمانوں کو وہ آئینہ دکھایا جس میں مستقبل کی تصویر صاف نظر آ رہی تھی۔ اس شخص کا نام چوہدری رحمت علیؒ تھا اور اس آئینے پر ایک ہی جملہ لکھا تھا:

"Now or Never"، اب یا کبھی نہیں۔

یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں تھا، یہ تاریخ کا حتمی انتباہ تھا۔ چوہدری رحمت علیؒ نے اس تحریر میں صاف الفاظ میں کہا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان متحدہ ہندوستان کے کسی بھی آئینی فارمولے کو قبول کرتے ہیں........

© Daily Urdu (Blogs)