Qaumiat Paraston Ki Zehniyat Ka Aik Profile
خواتین و حضرات، میں اپنی تحریروں میں گاہے بگاہے بائیں بازو کے دانشوروں، "لبرلز"، "ترقی پسندوں" اور نسلی قومیت پرستوں سے مخاطب ہوتا رہتا ہوں۔ اِن سے گفتگو کرنے کے بعد میں نے اِن کی ذہنیت کا ایک پروفائل بنایا ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور اِس پروفائل پر آپ کے تبصرے پڑھنا چاہتا ہوں۔
اِس ذہنیت میں سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ اِن دوستوں کی پہلی وفاداری اِن کے صوبے سے جڑی ہوئی ہے اور اپنی ریاست سے نہیں۔ اِن کے لیے، وہ ریاست جس کا اُن کا آبائی صوبہ ایک جزو ہے، ایک "مصنوعی" ریاست ہے۔ یہ چار "اقوام" کے بے بس لوگوں پر "اُن کی مرضی کے خلاف" "مسلط" یا "تھوپ دی گئی" ہے۔ اِنھیں اس حقیقت پر ناراضی ہے کہ اِن کے آبائی علاقے، جنھیں اپنی ذات میں آزاد اور خودمختار ریاستیں بنایا جانا چاہیے تھا، ایک کثیر نسلی ریاست کے صوبے جیسے ماتحت مقام پر پہنچا دی گئی ہیں۔
اِن کا ماننا ہے کہ اِنھیں "مصنوعی پاکستانی شناخت" قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ وہ اِس وجہ سے پاکستانی قوم کے تصور کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ وہ قومی یکجہتی اور اتحاد کی تمام کوششوں کی مخالفت اور حوصلہ شکنی شدت کے ساتھ کرتے ہیں۔
اِن کا یہ بھی ماننا ہے کہ اِن کی مادری زبانیں اور ثقافتیں، جو ہزاروں سال پرانی ہیں، پاکستان میں "قتل" کر دی گئی ہیں۔ اِن کا دعویٰ ہے کہ یہ سب پاکستانی قوم کے "مصنوعی" تصور اور اردو کے "کلچرل امپیریل ازم" cultural imperialism (ثقافتی سامراجیت) کی وجہ سے ہے۔ یہ ذہنیت اور بیانیہ اِن کے ہم خیال حلقوں یعنی echo chambers ایکو چیمبرز میں مسلسل دوہرایا جاتا ہے۔ اِن نظریات اور اِن کو ہم خیالوں میں مسلسل دوہراتے رہنے سے اِن میں غصہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس غصے کی وجہ سے یہ لوگ نہ صرف اپنے ملک کو "اپنا" نہیں سمجھتے ہیں بلکہ یہ غصہ اپنے ملک سے شدید نفرت کروانے کا سبب بھی بنتا ہے۔
اِن کی اپنی ریاست سے ناپسندیدگی کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے:
وہ اپنے صوبے کے بارے میں اِس طرح بات اور عمل کرتے ہیں جیسے یہ کوئی آزاد ملک ہو۔ وہ اُس کی ہر چیز کو ریاست کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اپنی ریاست کے مفادات اور صوبے کے مفادات کو ساتھ ساتھ نہیں چلاتے بلکہ اِن میں اِس طرح کی مسابقت رکھتے ہیں جس میں ایک کا فائدہ لازمی طور پر دوسرے کے لیے خسارہ ثابت ہو۔ Zero-sum game
وہ اپنی تحریروں اور پوڈ کاسٹوں میں اپنی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوکر انتہائی اشتعال انگیز، توہین آمیز اور طنزیہ زبان ideologically motivated loaded language استعمال کرتے ہیں جن میں "زبردستی"، "تھوپنا"، "مغلوب کر لینا"، "بالادستی"، "ریاستی جبر"، اپنے ہی ملک کے لیے "ظلم کا آلہ"، instrument of oppression اور "ثقافتی سامراجیت" cultural Imperialism جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے سب دوست اِن سب اصطلاحوں کو استعمال کرتے ہوں۔ مختلف لوگوں کی الگ الگ پسندیدہ اصطلاحات ہوتی ہیں۔
پاکستان جیسی کثیر نسلی ریاست میں ایسی loaded expressions کا استعمال بہت خطرناک ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اِن کے استعمال سے گفتگو میں میانہ روی برقرار نہیں رہ پاتی اور فریقین انتہاؤں والے موقف اپنا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے درمیان مفاہمت کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ ایسے جملوں سے لوگوں کے درمیان دلی برائی بڑھ جاتی اور باہمی نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور ہمارے دوست اردو کو مشترکہ ثقافتی اثاثہ کے بجائے دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے اردو کے حمایتیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوجاتا ہے۔
وہ پیچیدہ مسائل کو oversimplify زیادہ ہی آسان بناکر پیش کرتے ہیں جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلًا، اُن کے نزدیک پورا سرمایہ دارانہ نظام صرف یہ ہے کہ امیر کاروباری شخصیات اور ادارے غریب مزدوروں کا استحصال کرتے اور اپنے ٹیکس کی چوری کرتے ہیں اور اُن کا دھیان بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع، بازاروں میں اشیا کی دستیابی اور محنت کرکے خود کو غربت سے نکالنے وغیرہ کی طرف نہیں جاتا۔
وہ اُن تمام عوامل، واقعات اور شخصیات پر شدید تنقید کرتے ہیں جنھوں نے پاکستان کے قیام میں حصہ ڈالا ہو۔ اُنھیں اِن چیزوں میں کوئی خوبی، کوئی درست بات نظر نہیں آتی۔ وہ سر سید احمد خاں پر اپنے دور میں خواتین کی تعلیم کو فروغ نہ دینے پر تنقید کرتے ہیں جب اُس دور میں خواتین کی تعلیم کا کوئی رواج نہیں تھا اور نہ ہی خواتین میں تعلیم عام کرنے کی کوئی مہم چل رہی تھی۔ وہ اُن پر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک میں حصہ نہ لینے پر تنقید کرتے ہیں، جو اُن کے زمانے میں موجود ہی نہیں تھی۔ وہ مسلم لیگ کے قیام کے وقت اُس کے بیان کردہ مقاصد پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ 1916ء کے معاہدۂ لکھنؤ میں مسلم لیگ کے موقف پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ دو قومی........
