Insan Ka Dakhli Bohran
ترقی ہمیشہ تہذیب کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تہذیبیں اپنی ظاہری چمک، سائنسی ترقی، بلند عمارتوں اور تکنیکی سہولتوں کے باوجود اندر سے شکستہ اور کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے ترقی یافتہ دور میں زندہ ہے۔ اس کے پاس معلومات کی فراوانی ہے، جدید ٹیکنالوجی ہے، مصنوعی ذہانت ہے، عالمی رابطے ہیں، مگر اس تمام ترقی کے باوجود اس کے باطن میں ایک عجیب قسم کی بے چینی، تنہائی اور ویرانی جنم لے چکی ہے۔ انسان نے دنیا کو فتح کر لیا مگر اپنے دل کو ہار بیٹھا۔
علامہ اقبال نے برسوں پہلے اسی تہذیبی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:
اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
یہ شعر صرف دو مصرعے نہیں بلکہ پورے عہد کا فکری مرثیہ ہے۔ اقبال نے مدرسہ اور خانقاہ دونوں کے زوال پر افسوس کیا، کیونکہ یہ وہ ادارے تھے جہاں کبھی علم، شعور، روحانیت اور انسانیت کی روشنی پیدا ہوتی تھی۔ مگر جب علم اپنی روح کھو دے، عبادت محض رسم بن جائے اور روحانیت عمل سے جدا ہو جائے تو معاشرے میں........
