Ye Pakistan Hai Ya Bimaristan
اسماعیل میرٹھی کا ایک شعر ہے:
جتنے سخن ہیں ان میں یہی ہے سخن درست
اللہ آبرو سے رکھے اور تن درست
عزت سے تو ہم ہاتھ دو بیٹھے تھے۔ اب صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سبز پاسپورٹ دنیا بھر میں بے وَقعت اور بے حیثیت ہو چکا ہے۔ بھارتی اور بنگالی پاسپورٹس ہم سے زیادہ قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ رہی ملک میں ایک دوسرے کی عزت تو اس کا بھی جنازہ دھوم سے نکل چکا ہے۔ عزت لینے دینے کا معیار غیر حقیقی اور منافقانہ ہے۔ عزت لینے والا بھی جانتا ہے کہ مجھے عزت دینے والا دل سے دے رہا ہے یا گلے سے اور عزت دینے والے کو بھی پتا ہے کہ میں جو ناٹک کر رہا ہوں، اسے پوری طرح اس کی خبر ہے۔ شیخ صاحب، شیخِ محترم، میاں صاحب، حاجی صاحب، مرزا صاحب، بٹ صاحب، رانا صاحب وغیرہ کے سے الفاظ فلمی ڈائیلاگز زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ سچی اور پکی عزت کو تو ہم ترس ہی رہے تھے، صحت بھی ہم سے روٹھ چکی ہے۔
کوئی پچیس تیس سال پہلے پاکستانی کسی حد تک صحت مند تھے۔ آج جسے دیکھو بے رونق چہرہ لیے ہوئے ہے۔ منہ پہ ہوائیاں اُڑی ہوئی ہیں۔ جسم پہ کپکپی طاری ہے، بے ڈھنگی چال ہے۔ آنکھوں میں کوئی........
