menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mera Madrasi Babu, Ghafoor Shahzad

19 0
15.09.2026

میرا مدراسی بابو، غفور شہزاد

میں اسے دیکھتا تو دل بلیوں اچھل پڑتا، مذاق کے لئے اندر کا بچہ باہر آ کر مچلنے لگتا۔ میں نے اس سے واقعی محبت کی ہے۔ بالکل ویسی محبت جو اسکول میں بچے اپنے سادہ مزاج دوست سے کرتے ہیں۔ جب بھی مذاق کیا تحریک اس کی سادگی نے دی اور ایسی سادگی وہ آئے دن کیا کرتا۔ میرا جو بھی وقت اس کے ساتھ گزرا وہ میرے اداس لمحات کا آج بھی بہترین ساتھی ہے۔ اس لئے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس عمر میں بھی میرا غم گسار ہے۔

اس کی کہانی بھی عجیب ہے والدین کسی وجہ سے اسے اور اس کے چھوٹے بھائی کو بچپن میں اپنے رشتے داروں کے پاس مدراس چھوڑ آئے۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ مختلف ملازمتیں کیں اور پھر کراچی آ گیا۔ شومئی قسمت پھر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں آ ٹکرایا۔

یہ وہی زمانہ ہے جب فریڈرک صاحب، غفور شہزاد، انعام الرحیم اور میں ایک ساتھ ہوا کرتے تھے۔ کام اپنی جگہ مگر تفریح اپنی جگہ۔ جن لوگوں نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ملازمت کی ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر تفریح کا سامان نہ ہو تو اچھے کام کی توقع نہ کریں۔ میں نے اکثر اپنے دوستوں سے یہی کہا ہے کہ کمرشل کریٹیویٹی کے لئے جتنا نان سیریس ہو کر کام کریں گے اتنا ہی سیریس کام ہوگا۔ اب آپ سوچیں جب یہ فلسفہ ہو تو چین سے کون بیٹھتا ہے۔

چلیں! ایجنسی چلتے ہیں۔ صبح کا وقت ہے۔ فریڈرک صاحب اپنے لنچ بکس اور کتاب کے ساتھ کرسی پر براجمان ہیں۔ میں بھی بسوں کے دھکے کھاتا آفس آچکا ہیں۔ غفور شہزاد اپنے تن و توش کے ساتھ سلام کرکے بیٹھے ہیں اور ماتھے سے اپنے وی شیپ بالوں پر کنگھا کر تے ہوئے بولے "سنو! دعا کرو بس ہو جائے"۔ میں نے ذومعنیٰ میں کہا کہ کیا ہو جائے؟ بولا کہ میں نے خلیج ٹائمز میں جاب کے لئے اپلائی کیا ہے۔ عربی ایک دو دن میں انٹرویو لینے کراچی آ رہا ہے۔ لیں جناب صبح ہی صبح ہوگیا انتظام۔ ہم نے بظاہر مبارکباد دی اور لگ گئے اپنے مشن پر۔ پہلے پہنچے بھاری بھر کم آواز کے مالک آرٹ ڈائریکٹر رفاقت منور کے پاس اور ان سے کہا کہ کچھ دیر بعد غفور شہزاد سے خلیج ٹائمز کے عربی نمائندے کے طور پر بات کریں گے جس میں انگریزی برائے نام اور عربی زیادہ ہوگی۔ رفاقت منور ایک عرصہ عربوں کے ساتھ رہے تھے۔

ریسیشنسٹ کو سمجھا دیا کہ وہ کچھ دیر بعد غفور شہزاد سے انٹرکام پر بات کرے اور کہے کہ کوئی عربی بات کرنا چاہ رہا ہے۔ میں خاموشی سے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور فریڈرک صاحب کو اشارہ کر دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ فریڈرک صاحب........

© Daily Urdu (Blogs)