Advertising Ka Rangroot Aur Sakht Trainer
ایڈورٹائزنگ کا رنگروٹ اور سخت ٹرینر
زندگی عجیب ہے اور بہت عجیب ہے۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ میں ایڈورٹائزنگ میں آوں گا اور اعظم شیخ صاحب (ایم ڈی ونگز کمیونیکیشنز) سے ملاقات ہوگی۔ 1988 کے اوائل میں پہلی ملازمت بطور ٹرینی کاپی رائٹر ملی اور ایک ہفتے بعد ہی یہ کہہ کر فارغ کر دیا گیا کہ کاپی رائٹنگ آپ کے بس کی بات نہیں۔ تخلیقی کام کے لیے آپ ناموزوں ہیں، یہاں سے فارغ ہو کر ونگز کمیونیکیشنز آج کے مشہور رائٹر ندیم فاروق پراچہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے والد فاروق پراچہ کے پاس ایک اور ایجنسی بھیج دیا۔ جیسے تیسے وہاں ملازمت ہوئی تھی کہ 3 ماہ بعد وہاں سے رخت سفر کے آثار ہویدا ہو گئے۔
ٹیلی فون آپریٹر نہ آنے کی صورت میں مجھے شیٹوں کے تپتے ریسیشن پر بٹھا دیا جاتا۔ عجیب ذلت تھی روز سوچتا کہ آج کے بعد نہیں آوں گا۔ مستقل مزاج تھا یا ڈھیٹ۔۔ پتہ نہیں۔ پھر دوسرے روز پہنچ جاتا۔ موقع ملتے ہی مختلف ایجنسیز میں کال کرکے ملازمت کا پوچھتا اور ایک دن ندیم فاروق پراچہ کو فون کیا تو پتہ چلا کہ آ جاو جگہ خالی ہے۔
یہ غالباََ اگست 1988 کی بات ہے۔ ندیم پراچہ نے اعظم شیخ سے ملوا دیا۔ سلم اینڈ اسمارٹ، ہر دم متحرک۔ نظم و ضبط کے پابند۔ بظاہر سخت مزاج لیکن حقیقت میں شفیق اور بہترین استاد۔ کبھی کبھی لگتا کہ ان میں پارہ بھرا ہوا ہے۔ جیسے خود تھے ویسا ہی ایمپلائیز سے توقع کیا کرتے تھے۔ خود بھی مصروف رہتے اور ہمیں بھی مصروف رکھنے کی کوشش کرتے۔ اب میں ایڈورٹائزنگ میں رنگروٹ تھا اور اعظم شیخ جیسے سخت ٹرینر کی زیر نگرانی ٹریننگ کا آغاز ہو چکا تھا جس میں شدت کچھ ماہ بعد آنی تھی جس سے میں قطعی بے خبر تھے۔
ونگز کمیونیکیشنز اپنے وقتوں کی ایک بڑی ایجنسی تھی۔ اعظم شیخ کا تعلق بنگلور سے تھا۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ بہت اچھے گٹارسٹ تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس طرح ایڈورٹائزنگ میں آئے۔ ساسا ایڈورٹائزنگ میں جنرل مینجر تھے اور اس کے بعد انہوں نے اپنی ایجنسی ونگز کمیونیکیشنز کا آغاز کر........
