Waday Ki Hudood
طارق جان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ادارۂ پالیسی سٹڈیز کے سینئر محقق رہ چکے ہیں۔ وہ متعدد اہم کتابوں کے مصنف ہیں جن میں "رسول اللہ ﷺ: حیات و عہد" کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ مذہب، تہذیب اور سیکولرازم کے موضوعات پر ان کی گہری علمی دسترس مسلم ہے۔ "سیکولرازم سے مکالمہ" ان کی اسی فکری و تحقیقی سلسلے کی پانچویں کتاب ہے، جو محض ایک کتاب نہیں بلکہ عصر حاضر کے ایک بڑے فکری چیلنج کا مدلل اور عالمانہ جواب ہے۔ یہ تصنیف ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے بہت سے معاشروں میں سیکولرازم کو ایک ایسی معجز نما دوا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل کا حل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ طارق جان اس تصور کا نہایت باریک بینی، علمی دیانت اور فکری جرات کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں اور یہ دکھاتے ہیں کہ جس نظریے کو انسانی آزادی، رواداری اور ترقی کا ضامن قرار دیا جاتا ہے، اس کے عملی نتائج اور تاریخی تجربات اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
گزشتہ دو صدیوں میں مغربی دنیا نے سیکولرازم کو محض ایک سیاسی اصول کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی عقیدے کے طور پر اختیار کیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد ریاست اور کلیسا کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو ختم کرنا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تصور مذہب کو اجتماعی زندگی سے الگ کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بہت سے دانشور اور پالیسی ساز مذہب کو انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار........
