menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kursi Ke Peeche Chupa Hua Sawal

21 0
01.10.2026

کرسی کے پیچھے چھپا ہوا سوال

سرکاری دفاتر کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ یہاں بعض اوقات ایک کرسی خالی ہوتی ہے، مگر اس خالی کرسی کے ساتھ اختیار خالی نہیں ہوتا۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں، دستخط ہوتے رہتے ہیں، فیصلے ہوتے رہتے ہیں اور ادارہ کسی نہ کسی طرح اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ کسی افسر کی ریٹائرمنٹ، تبادلے، رخصت یا کسی دوسری ذمہ داری کے باعث جب کوئی اہم منصب خالی ہوتا ہے تو عارضی طور پر کسی دوسرے افسر کو اس کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی دفتری ضرورت ہے، مگر ہر معمول کے پیچھے ایک سوال بھی چھپا ہوتا ہے: یہ ذمہ داری کس کو دی گئی اور کیوں دی گئی؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ کسی منصب کی ذمہ داری صرف ایک نام کے ساتھ نہیں آتی۔ اس کے ساتھ اختیار آتا ہے، فیصلے آتے ہیں، مالی و انتظامی ذمہ داریاں آتی ہیں اور بعض اوقات پورے ادارے کی سمت متعین کرنے کی طاقت بھی آ جاتی ہے۔ اس لیے یہ کافی نہیں کہ جس شخص کو عارضی ذمہ داری دی جا رہی ہے وہ سب سے سینئر ہے۔ سینیارٹی یقیناً سرکاری نظام کا ایک اہم اصول ہے، مگر کیا سینیارٹی ہی اہلیت کی آخری دلیل ہے؟ شاید نہیں۔ ایک شخص کسی محکمے میں کئی برس گزار کر سب سے سینئر ہو سکتا ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر مخصوص منصب کے لیے سب سے زیادہ موزوں بھی ہو۔

کسی کتب خانے کا سربراہ ہو، کسی ہسپتال کا منتظم، کسی جامعہ کا انتظامی ذمہ دار یا کسی مالیاتی شعبے کا نگران، ہر منصب اپنی الگ نوعیت، الگ تقاضے اور الگ ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ اس لیے کسی شخص کو کسی عہدے کی ذمہ داری دیتے وقت یہ........

© Daily Urdu (Blogs)