Tabdeeli Ka Saraab
ہماری سیاست کا سب سے دلچسپ المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر روز تبدیلی آتی ہے، مگر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوتا۔ کبھی حکومت کے جانے کی خبر گردش کرتی ہے، کبھی نئے وزیراعظم کی قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں، کبھی کسی بڑے سیاسی رہنما کی رہائی کو پورے نظام کے بدلنے کی علامت بنا دیا جاتا ہے اور کبھی کسی ملاقات کو مستقبل کے سیاسی نقشے کا نقطۂ آغاز سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن چند دن گزرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چہرے وہی ہیں، مسائل وہی ہیں اور عوام کی زندگی بھی وہیں کھڑی ہے جہاں پہلے تھی۔ اقتدار کی تبدیلی جمہوری سیاست کا معمول ہے۔ ایک حکومت جاتی ہے، دوسری آتی ہے، وزرا تبدیل ہوتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں اور نئی امیدیں جنم لیتی ہیں۔ لیکن اگر ریاستی نظام کی بنیادیں وہی رہیں تو نئے چہروں سے پرانی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ ایک وزیراعظم کی جگہ دوسرا وزیراعظم آ سکتا ہے، ایک وزیر کی جگہ دوسرا وزیر آ سکتا ہے، مگر اگر معیشت کا ڈھانچہ کمزور، ادارہ جاتی فیصلے غیر مستقل اور سیاسی ماحول مسلسل بے یقینی کا شکار ہو تو تبدیلی محض نام کی رہ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ہر بحران کا علاج شخصیت کی تبدیلی میں کیوں تلاش کرتے ہیں، نظام کی اصلاح میں کیوں نہیں؟
پاکستان کی معاشی مشکل بھی اسی بنیادی تضاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینا ضروری ہے، لیکن ایسا ریلیف جو قومی وسائل کی قیمت پر دیا جائے، مستقبل میں ایک اور بوجھ بن سکتا ہے۔ قرض لے کر وقتی سہولت پیدا کرنا آسان ہے، مگر قرض واپس کرنے کے لیے وسائل پیدا کرنا مشکل۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ حکومت آج کچھ رقم خرچ کرکے لوگوں کو خوش کر دے، بلکہ کامیابی یہ ہے کہ ایسی معاشی سرگرمی پیدا ہو جس سے کل ریاست کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ وسائل موجود ہوں۔ قومیں صرف اخراجات سے خوشحال نہیں ہوتیں،........
