Hamari Zimmedari Kya Hai? (1)
ہماری اصل ذمہ داری کیا ہے؟ (1)
انسانی تہذیب کو قائم رکھنے والی قوتوں میں ایک نہایت خاموش مگر اہم قوت "دینے" اور دوسروں کے لیے جینے کی ہے۔ قومیں صرف حکومتوں، قوانین، معیشتوں یا سیاسی نعروں کے سہارے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب افراد، خاندان اور ادارے مشکل ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ ہمارا پاکستان شاید اُن ممالک میں شامل ہے جہاں یہ حقیقت سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
پاکستان تضادات کی سرزمین ہے۔ یہاں بے پناہ انسانی صلاحیت، ذہانت، محنت اور روحانی گہرائی موجود ہے، مگر اسی کے ساتھ غربت، عدم مساوات، ناقص تعلیمی و طبی نظام، بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ دیہاتوں، بستیوں اور شہروں میں کروڑوں ایسے بچے اور نوجوان موجود ہیں جن میں غیر معمولی صلاحیتیں ہیں، لیکن غربت، بے روزگاری، بیماری، ناقص تعلیم اور مواقع کی کمی اُن کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اصل المیہ صلاحیتوں کی کمی نہیں بلکہ مواقع کی کمی ہے۔
ایسے معاشرے میں "دینا" صرف خیرات نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور قومی ضرورت بن جاتا ہے۔ اکثر حالات میں یہ اُن نظاموں کی جگہ لیتا ہے جو عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہوتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے کی ایک خوبصورت روایت یہ ہے کہ عام لوگ بھی مشکل وقت میں دوسروں کے کام آتے ہیں۔ سیلاب ہو، زلزلہ، مہنگائی، رمضان المبارک یا کسی غریب کی ذاتی مصیبت، لوگ اپنے گھروں، دسترخوانوں، وقت اور وسائل کے دروازے دوسروں کے لیے کھول دیتے ہیں۔ معاشی مشکلات کے باوجود پاکستانی قوم دنیا کی اُن اقوام میں شمار ہوتی ہے جہاں فلاحی جذبہ اور غیر رسمی سماجی تعاون اب بھی زندہ ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں کئی ایسی عظیم شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے خدمتِ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کا نام احترام اور انسان دوستی کی علامت بن چکا ہے۔ ان کی قائم کردہ........
