menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

   وسط ایشیا کی کروٹ اور کم نگاہ پیر حرم  (1)

10 0
10.11.2025

سوویت یونین کی تحلیل سے چند سال قبل غالبا 1988ء میں امور وسط ایشیا کے ماہر مرحوم آباد شاہ پوری سے میری ایک نشست ہوئی کہ جب افغانستان سوویت قہر کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ سوویت یونین کی تحلیل کا تو کوئی سوال تک ہمارے ذہن میں نہیں تھا، نہ اس پر بات ہوئی۔ مرحوم آباد شاہ پوری افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کی بیچارگی کا ذکر کرتے کرتے آبدیدہ تو ہوتے رہے،لیکن سوویت شکست و ریخت اور اس کے مطلقا غائب ہونے کی طرف گئے ہی نہیں۔ دو ایک سال بعد شام ہمدرد کے لئے حکیم سعید شہید نے سوویت حشر سامانیوں پر گفتگو کے لئے دو اہل علم کا خطاب رکھا۔ ماسکو میں پاکستانی سفیر ایس ایم قریشی مرحوم تب سابق ہو چکے تھے، اپنے خطاب میں انہوں نے سوویت تحلیل کو عشروں کا نہیں سالوں کا مسئلہ کہہ کر ہم سامعین کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ خلاصہ یہ تھا کہ دل (سوویت یونین) کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا کہ شام گیا، ان کے فوراً بعد مورخ بے بدل پروفیسر احمد دانی کی تقریر تھی۔

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟

پروفیسر دانی نے تمہیدی کلمات کے بعد انگلی کے اشارے سے ایک ایک لفظ کو جلی (bold) کرتے ہوئے یہ پنج حرفی جملہ ادا کیا: ”سوویت یونین نہیں ٹوٹ رہا“ان کی باقی تقریر اسی ایک جملے کی تشریح تھی. پاکستانی سفیر تب نہیں، کچھ سال پہلے ماسکو میں سفیر تھے۔ ادھر دانی مرحوم عالمی شہرت کے حامل اور کل عالم میں معروف پروفیسر تھے۔ چنانچہ سابق سفیر پاکستان کو ہم سامعین نے سرکاری ملازم سمجھتے ہوئے ان کے کہے کو سرکاری سبق سمجھا، میں تو افسردہ ہو کر لوٹا کہ اس سے قبل پروفیسر دانی ہی جیسے مورخ آباد شاہ........

© Daily Pakistan (Urdu)