menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  عدلیہ، ننانوے سے قبل اور بعد

11 0
24.11.2025

عدلیہ سمیت ہر ادارے کے لیے رائے دہی کے مواقع پر سبھی وہی رائے ظاہر کرتے ہیں جو ان کے میلان میں گندھی ہوتی ہے۔ تنقیص کرنا ہو تو جسٹس منیر کتاب تنقیص کا پیش لفظ، توصیف مطلوب ہو تو جسٹس کارنیلیس سے کام چلا لیا جاتا ہے۔ اپنی نشست و برخاست بڑی حد تک قانونی حلقوں میں رہتی ہے جہاں یہی دیکھا سنا کہ عدلیہ بحیثیت مجموعی ہمیشہ شب و شتم کا نشانہ رہتی ہے۔ منفی جذبات سے ذہن اتنے آلودہ کہ خشخاش کے برابر برائی نظر آئے تو تمام ملک۔کو برائی کا مرقع کہہ دیا جاتا ہے۔ بھلائی کا پہاڑ سامنے کھڑا ہو تو نظر ہی نہیں آتا۔ بجلی کی قیمت چند پیسے بڑھ جائے تو دہائی مچ جاتی ہے۔ ایک ماہ قبل 38 روپے فی یونٹ صنعتی اور 34 روپے فی یونٹ زرعی استعمال والی بجلی کی قیمت میں بالترتیب 15 (40 فیصد) اور 11 روپے (33 فیصد) کی بہت بڑی کمی کی گئی، کسی نے اس کا ذکر تک نہیں کیا، جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ رب کا شکر گزار بھی نہیں ہوتا۔

زیارت میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا گیا ,5 دہشتگرد گرفتار , کیا کچھ برآمد ہوا ؟جانیے

جنرل پرویز سے قبل عدلیہ میں اتنے برے منصفین نہیں تھے جس کی منظر کشی کی جاتی ہے۔ جسٹس منیر کے بالمقابل جسٹس کارنیلیس اور جسٹس کیانی بھی تھے۔ جسٹس شہاب الدین، جسٹس حمود الرحمن، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس صمدانی ہماری عدلیہ کے وہ روشن ستارے ہیں جن پر ہم فخر کرتے ہیں۔ آمر کو سند جواز دینے والے قابل مذمت لوگوں کو ذرا دیر کے لیے چھوڑیے۔ بحیثیت مجموعی ہماری عدلیہ قابل قدر ہی رہی ہے۔ 1999ء سے قبل یہ ہمارا انمول اثاثہ تھی۔ چلیے آ جائیے آئین شکن کو سند دینے........

© Daily Pakistan (Urdu)