حامد میر
اسکول کے زمانے میں شفیق الرحمان میرے پسندیدہ رائٹر تھے۔ میرے اسکول بیگ میں اُن کی کوئی نہ کوئی کتاب موجود رہتی۔ جب میں اُن کی کتاب پڑھ لیتا تو پھر وہی کتاب مختلف کلاس فیلوز میں گھومتی رہتی اور کچھ دن بعد میرے پاس واپس آجاتی۔ شفیق الرحمان صرف ایک مزاح نگار نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی تھے۔ ڈاکٹر بھی وہ جسکی ساری عمر فوج میں گزری۔ اُنکی ہنستی مسکراتی کہانیوں کا ایک مجموعہ ’’حماقتیں‘‘ کے نام سے بڑا مقبول ہوا۔ ’’حماقتیں‘‘ کے بعد اُنکی ایک اور کتاب آئی جس کا نام ’’مزید حماقتیں‘‘ تھا۔ ان کتابوں میں انہوں نے کچھ ایسے احمقوں کو موضوع سخن بنایا جو اپنے آپ کو بڑا عقل مند سمجھتے تھے۔
چند دنوں سے مجھے شفیق الرحمان کی یہ دونوں کتابیں ’’حماقتیں‘‘ اور ’’مزید حماقتیں‘‘بہت یاد آ رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم سامنے آیا تو حکومت کے کچھ سینئر وزراء نے اس فیصلے کو بڑا متوازن قرار دیتے ہوئے اس پر فوری عملدرآمد کا اعلان کر دیا۔ کچھ ہی گھنٹے گزرنے کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ میڈیا پر نمودار ہوئے اور انہوں نے بڑے طمطراق سے اس فیصلے کیخلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ تارڑ صاحب کے اعلان نے اُنکے اپنے ہی کچھ ساتھی وزراء کو پریشان کر دیا۔ اس اعلان سے اگلے دن سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی گئی، لیکن اس درخواست کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر ناقابلِ سماعت قرار دیکر واپس کر دیاگیا۔ اب حکومت نے ہر حالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا تھا۔ جمعرات کو عمران خان کو اڈیالہ جیل سےشفا اسپتال لایا جانا تھا لیکن انہیں پمز پہنچا دیاگیا۔ رات بارہ بجے سے صبح فجر تک اُنہیں پمز میں ہی رکھا گیا اور پھر واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ یہ عجب طبی معائنہ تھا جس کیلئے تہجد کا وقت چنا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ شفا کے باہر ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا اسلئے عمران خان کو پمز بھیجا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پھر خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو کس نے شفا میں بٹھائے رکھا؟ میں نے حکومت کے ایک وزیر سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہمارے لئے پریشانیاں پیدا کیں اور اب اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے مزید پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ’’مزید پریشانیاں‘‘ کے الفاظ سن کر مجھے ’’مزید حماقتیں‘‘یاد آ گئی۔ پاکستان کی موجودہ سیاست اور شفیق الرحمان کی کتاب ’’مزید حماقتیں‘‘ کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست پر کبھی کبھی احمقوں کی جنت کا گمان ہوتاہے۔ اس جنت کے بعض احمق ترین مکین اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں۔ احمق ہونا کوئی بری بات نہیں کیونکہ حماقتیں تو کبھی کبھی ہم جیسے عقلمندوں سے بھی سرزد ہو جایا کرتی ہیں۔لیکن ایک آدھ حماقت کے بعد ’’مزید حماقتیں‘‘باعث تشویش ہونی چاہئیں ۔ ہندوستان میں اردو کے ایک مزاحیہ شاعر احمق پھپھوندوی گزرے ہیں۔ اُنکا اصل نام محمد مصطفیٰ خان تھا۔ وہ اُتر پردیش کے قصبے پھپھوند میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے احمق کا تخلص اختیار کر کے ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت پر طنز کے تیر برسانے شروع کیے تو گرفتار کر لئے گئے۔ دورانِ قید انہوں نے جو لکھا وہ ’’زندانِ حماقت‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ کلام کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف نام کے احمق تھے، حقیقت میں بہت بڑے ادیب اور حریت پسند تھے۔ ایک دفعہ کسی مشاعرے میں بلائے گئے۔ وہاں کچھ ناپسندیدہ شاعروں کو دیکھ کر فرمایا:
ادب نوازی اہلِ ادب کا کیا کہنا
مشاعروں میں آجکل احمق بلائے جاتے ہیں
آج احمق پھپھوندوی زندہ ہوتے تو اڈیالہ جیل کے........
