menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اگر "نیکی کی گولیاں" ایجاد ہو جائیں

26 0
31.07.2026

اگر "نیکی کی گولیاں" ایجاد ہو جائیں

کرشن چندر نے افسانہ نہیں لکھا تھا، گویا آئندہ زمانوں کے لیے ایک آئینہ تراشا تھا۔ "نیکی کی گولیاں" ۔ ایک سیلز مین میاں بیوی کو چند گولیاں بطور نمونہ دیتا ہے۔ گولیاں کھاتے ہی دونوں کے دل کے بند دریچے کھل جاتے ہیں۔ زبان وہی بولتی ہے جو برسوں سے دل میں قید تھا۔ محبت کے پردے ہٹتے ہیں، مفاد، حسد، بے وفائی اور خود غرضی کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر یہ گولیاں شہر بھر میں نایاب ہو جاتی ہیں اور لوگ مہنگے داموں خریدنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ معاشرے کے ہر طبقے کا باطن عیاں ہونے لگتا ہے۔سوچیے، اگر یہی گولیاں آج پاکستان میں دستیاب ہو جائیں تو کیا منظر ہوگا؟ شاید سب سے پہلے ان گولیوں پر پابندی لگانے کی سفارش آئے۔ وجہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ بہت زیادہ سچ اگلتی ہیں۔ ہمارے ہاں جھوٹ سے زیادہ خطرناک چیز سچ ہے، کیونکہ جھوٹ سے نظام چلتا ہے اور سچ سے نظام کانپنے لگتا ہے۔ اگر کوئی سیاست دان یہ گولی کھا لے تو ممکن ہے تقریر کا آغاز حسبِ معمول عوام کی خدمت کے وعدوں سے کرے، مگر چند لمحوں بعد خود ہی کہہ اٹھے کہ انتخابی منشور تو صرف ووٹ لینے کا ذریعہ تھا،ووٹ کو عزت دو تو ایک جال تھا ، اصل جنگ اقتدار کی تھی۔ پھر شاید وہ یہ بھی اعتراف کر لے کہ جسے ملک دشمن کہہ رہا تھا، اگر کل وہی اتحادی بن جائے تو اسے محبِ وطن قرار دینے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ حالیہ گلگت بلتستان الیکشن ہوا، پھر کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات........

© Daily 92 Roznama