رسومات ِ تصوف پر علامہ اقبالؒ کا ایک انٹر ویو
رسومات ِ تصوف پر علامہ اقبالؒ کا ایک انٹر ویو
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
علامہ اقبالؒ طریقت و تصوّف سے خصوصی شغف رکھتے اور بالخصوص اپنے عہد کے صوفیاء ،جن میں پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ، شیرِ ربانی میاں شیر محمد شرقپوریؒ جیسی مقتدر ہستیاں بطورخاص قابل ذکر ہیں ، سے عقیدت و ارادت رکھتے اور ان سے اکتسابِ فیض کے متمنی بھی رہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ سے نیاز مندی اور ان کے مزار کی حاضری،ان کا خصوصی معمول، جبکہ کشف المحجوب کے مطالعہ سے ان کو یک گونہ لگاؤ تھا، تاہم خطے میں طریقت و تصوّف کی رسوم وروایات کے حوالے سے وہ بعض امور کے ناقد بھی تھے، منشی محمد دین فوق،علامہ اقبال کے ہم عصر اور اپنے عہد کے معروف شاعر، انشا پرداز، مورخ اور اخبار نویس تھے، انہوں نے 1914ء میں ’’طریقت‘‘کے نام سے ایک ماہنامہ شروع کیا، جو اس عہد میں تقریباً پانچ سال تک باقاعدگی کا حامل رہا، اس کا پہلا شمارہ جولائی 1914ء میں شائع ہو ا، جس میں انہوں نے علامہ اقبال کا ایک خصوصی انٹرویو شائع کیا، جو تصوّف و طریقت، صوفیاء کے احوال و مقامات، مراسمِ عرس، ضرورتِ مرشد اور زیارت قبور، جیسے موضوعات کی بابت حضرت ِ اقبال کے خصوصی افکار و خیالات پر مبنی تھا۔محمد دین فوق کے اس سوال پر کہ صوفیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا۔۔۔؟کے جواب میں حضرت علامہ نے فرمایا کہ اہل ِ تصوف، خصوصاً ہندوستان کے صوفیائے عظام نے اسلام کو جو تابندگی اور تازگی بخشی اس کی کوئی اور مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے تیغ و تلوار سے نہیں بلکہ محض اپنے حْسن ِ عمل اور اخلاقِ محمد ی کی ترویج و تبلیغ سے ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کو........
