حمزہ علوی: فکر کی روایت
حمزہ علوی: فکر کی روایت
کچھ شخصیات وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتیں، بلکہ وقت کے ساتھ اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ وہ صرف اپنے عہد کی نہیں ہوتیں، بلکہ آنے والے زمانوں کی فکری تشکیل میں بھی حصہ ڈالتی رہتی ہیں۔ حمزہ علوی انہی نابغہ روزگار مفکرین میں شامل ہیں۔10 اپریل کا دن ان کی سالگرہ ہے۔ کراچی کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہونے والے اس نوجوان نے معاشیات کی تعلیم حاصل کی، ریاستی اداروں کی تشکیل میں حصہ لیا، مگر جلد ہی انہیں محسوس ہوا کہ اصل سوالات کہیں اور ہیں۔ وہ سوالات جو فائلوں اور دفتری میزوں پر حل نہیں ہوتے بلکہ کھیتوں، گلیوں، اور سماجی تعلقات کے پیچیدہ جال میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یہی جستجو انہیں مشرقی افریقہ لے گئی، جہاں انہوں نے کسانوں کی زندگی، ان کی معاشی جدوجہد، اور طاقت کے ڈھانچوں کو قریب سے دیکھا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب ان کے اندر کا مفکر پوری طرح بیدار ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ نظریات کتابوں میں نہیں، بلکہ زمین پر چلنے والے انسانوں کی زندگیوں میں اپنی اصل شکل اختیار کرتے ہیں۔1965 میں جب ان کا شہرۃآفاق مضمون ‘‘Peasants and Revolution’’ منظر عام پر آیا، تو اس نے علمی دنیا میں ایک ہلچل مچا دی۔ یہ وہ دور تھا جب ماؤکے نظریات دنیا بھر میں زیرِ بحث تھے اور انقلاب کی نئی تعریفیں سامنے آ رہی تھیں۔ ایسے میں حمزہ علوی نے ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جو نہ صرف مختلف تھا بلکہ جرات مندانہ بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر زرعی معاشروں میں انقلاب کی اصل قوت درمیانی کسان ہو سکتے ہیں۔ یہ خیال اس لیے چونکا دینے والا تھا کہ اس وقت تک انقلابی نظریات میں غریب کسانوں کو مرکزی حیثیت دی جاتی تھی۔ علوی نے اس تصور کو الٹ دیا۔ ان کے مطابق درمیانے درجے کے کسان زیادہ وسائل رکھتے ہیں، زیادہ خود مختار ہوتے ہیں، اور اس لیے وہ کسی بھی انقلابی جدوجہد میں زیادہ پائیدار کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ محض ایک نظریاتی بحث نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا فکری موڑ تھا جس نے تیسری دنیا کے سماجوں کو سمجھنے کے طریقے کو بدل دیا۔ علوی نے یہ واضح کیا کہ ہر معاشرہ اپنی مخصوص تاریخی اور معاشی حقیقتوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، اور اسے سمجھنے کے لیے یکساں نظریاتی سانچوں کا استعمال ناکافی ہے۔1972 میں انہوں نے اپنے فکری سفر کو ایک نئی جہت دی، جب انہوں نے مابعد نوآبادیاتی ریاست کا نظریہ پیش کیا۔ یہ نظریہ دراصل ایک آئینہ تھا، جس میں پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک اپنی سیاسی حقیقت کو دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بننے والی ریاستیں ایک عجیب تضاد کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک طرف ان کے پاس مضبوط فوجی اور انتظامی ڈھانچے ہوتے ہیں، جو نوآبادیاتی طاقتوں کی میراث ہوتے ہیں، اور دوسری طرف ان کے جمہوری اور عوامی ادارے کمزور اور ناپختہ ہوتے ہیں۔یہی تضاد ان ریاستوں کو عدم استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔ جب سیاسی ادارے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو فوجی ادارے مداخلت کرتے ہیں، اور یوں جمہوریت کا عمل بار بار تعطل کا شکار ہوتا ہے۔ علوی کا یہ تجزیہ آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔1980 کی دہائی میں جب پاکستان کے شہری مراکز، خاص طور پر کراچی، نسلی اور لسانی کشیدگی کا شکار ہوئے، تو حمزہ علوی نے اس مسئلے کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے یہ مؤقف پیش کیا کہ پاکستان کا قیام صرف مذہبی جذبات کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط معاشی منطق بھی کارفرما تھی۔انہوں نے سلیریڈ کلاس کا تصور پیش کیا—یعنی وہ تعلیم یافتہ مسلمان طبقہ جو برصغیر میں سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کے مطابق یہی طبقہ پاکستان کے قیام کا ایک اہم محرک تھا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد یہ مقابلہ ختم ہونے کے بجائے مختلف نسلی گروہوں کے درمیان منتقل ہو گیا، جس سے نئے تنازعات نے جنم لیا۔یہ تجزیہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کو صرف جذباتی یا ثقافتی بنیادوں پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے پیچھے گہرے معاشی اور طبقاتی عوامل کارفرما ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ایک سنگین فکری غلطی ہوگی۔اپنی آخری تحریروں میں حمزہ علوی نے مذہب اور سیاست کے تعلق پر بھی گہری نظر ڈالی۔ انہوں نے خلافت تحریک کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس نے برصغیر کے مسلمانوں میں مذہبی قیادت کے سیاسی کردار کو مضبوط کیا۔ حمزہ علوی کی سب سے نمایاں خوبی ان کی فکری دیانتداری تھی۔ وہ کسی بھی نظریے کو مقدس نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے مارکسزم کو اپنایا، مگر اس پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مارکسزم مکمل سیاسی نظام کے طور پر کامیاب نہیں ہوتا۔یہ بات ان کی فکری پختگی اور خود احتسابی کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ نظریات کے اسیر نہیں تھے، بلکہ نظریات کو اپنے تجزیے کا تابع بناتے تھے۔آج جب ہم ان کی سالگرہ منا رہے ہیں، تو یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہم نے ان کی فکر سے کوئی سبق حاصل کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے تعلیمی نظام میں ایسے مفکرین کو وہ مقام دیا ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی زیادہ تر رٹے پر مبنی علم کو فروغ دیتے ہیں، جہاں سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی کم اور اطاعت کی تلقین زیادہ کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں حمزہ علوی جیسے مفکرین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔وہ ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ نظریات کو اندھا دھند قبول کرنے کے بجائے انہیں مقامی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ حمزہ علوی محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک فکری روایت ہیں—ایک ایسی روایت جو سوال اٹھانے کی ہمت دیتی ہے، جو اختلاف کو علم کا حصہ سمجھتی ہے، اور جو ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی ہمیشہ تلاش کے عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ کسی حتمی دعوے میں۔
