کیا پانی تیسری عالمی جنگ ...
پاکستان، بھارت، انڈس واٹرز ٹریٹی اور جنوبی ایشیا کا مستقبل پانی زندگی ہے۔ یہ صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب، معیشت، زراعت ، صنعت اور قومی سلامتی کی بنیاد بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قدیم تہذیبیں دریاؤں کے کنارے آباد ہوئیں۔ مصر کی تہذیب دریائے نیل کے ساتھ پروان چڑھی، عراق کی تہذیب دجلہ و فرات کے کنارے پھلی پھولی، جبکہ برصغیر کی قدیم وادی سندھ کی تہذیب بھی دریائے سندھ کے مرہونِ منت تھی۔ آج اکیسویں صدی میں دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں پانی صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی ماہرین کئی برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی، خشک سالی اور پانی کے غیر متوازن استعمال کے باعث مستقبل میں پانی عالمی سیاست کا سب سے حساس موضوع بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کا تنازعہ بھی بار بار عالمی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات دنیا کے پیچیدہ ترین ہمسایہ تعلقات میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک صرف سرحدی پڑوسی ہی نہیں بلکہ ایک مشترکہ تاریخ، ثقافت، زبان اور تہذیب بھی رکھتے ہیں۔ مگر 1947ء کی تقسیم نے اس خطے کو ایسی سیاسی اور جغرافیائی کشیدگی میں مبتلا کیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے دوران لاکھوں انسان بے گھر ہوئے، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور دونوں طرف تلخ یادیں چھوڑ گئیں۔ انہی واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی بنیاد رکھی، جو وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔قیامِ پاکستان کے چند ہی ماہ بعد کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی جنگ کا سبب بنا۔ اس کے بعد 1965ء، 1971ء اور 1999ء میں بھی دونوں ممالک فوجی تصادم کا شکار ہوئے۔ سرحدی جھڑپیں، سفارتی کشیدگی، دہشت گردی کے الزامات اور سیاسی اختلافات نے تعلقات کو معمول پر آنے کا موقع کم ہی دیا۔ ان تمام تنازعات کے باوجود ایک ایسا معاملہ تھا جس پر دونوں ممالک نے مسلسل کسی نہ کسی حد تک........
