Iran Kitna Dabao Jhel Paye Ga?
ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟
امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو دھاری تلوار سے خود امریکی عوام اور ٹرمپ کے ووٹر کب تک اپنا گلا محفوظ رکھ پائیں گے؟
اس کے برعکس ایرانیوں کا معاملہ بظاہر سیدھا سیدھا ہے۔ وہ گذشتہ نصف صدی سے ہر طرح کی پابندیوں کے عادی ہیں چنانچہ انھوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی میں خودکفالت اور درآمد و برآمد کے متبادل راستے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ اگر بین الاقوامی پابندیاں اس قدر ہمہ گیر اور طویل نہ ہوتیں تو شائد ایران کی مڈل کلاس کب کی ریاستی نظام کی " آہنی گرفت " کسی حد تک ڈھیلی کرنے میں کامیاب ہو چکی ہوتی کہ جس مڈل کلاس کی ہمدردی کا درد مغرب کے پیٹ میں تب سے اٹھ رہا ہے جب سے مغرب نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا شکنجہ کس رکھا ہے۔
یہی مغربی دوغلا پن ہے جسے ایرانی حکمران طبقہ اپنے استحکام کے لیے مہارت سے استعمال کرتا آیا ہے۔ مغرب کی روش یونہی رہی تو قوم پرستی و عقیدے کا مرکب ایرانی ریاستی نظام بھی یونہی جاری رہے گا۔ گویا ایک اعتبار سے مغرب اور ایرانی نظام کے مابین دشمنی دراصل دوطرفہ لاشعوری تعاون کی شعوری تصویر ہے۔
اس بقراطی سے قطع نظر آج کی عملی حقیقت کچھ یوں ہے کہ دونوں حریفوں میں سے جو سب سے پہلے پلک جھپکے........
