menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tussi Euro Che De Deo

28 0
28.06.2026

یہ وہ پہلی لائن تھی جو دو سال بعد لاہور ائیرپورٹ پر اتر کر ہم وطن ٹیکسی والے کے منھ سے سنی، جب اسے پتا چلا کہ یہ جرمنی کی سواری ہے۔ تین ہزار لاہور ائیرپورٹ سے لاری اڈے تک کا مانگا، جس کا ریٹ حقیقت میں پندرہ سو عام تھا۔ قائد کی چند لال ورق والی تصاویر تھیں تو اس نے کہا، "یورو تو ہوں گے ناں جی آپ کے پاس!" شاید وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا کہ اسے بچے پالنے ہیں، کیسے بھی کرکے۔

اس آم بیچنے والے نے میرے ایک دوست، جو پیدل چل کے ریڑھی تک آیا، ٹھیٹھ پنجابی میں آموں کا ریٹ پوچھا تو اسے تین سو روپے کلو اور جب میں نے گاڑی سے اتر کر ریٹ کو پرائس کہہ کر اردو میں پوچھا تو مجھے وہی آم ساڑھے تین سو روپے کلو بتائے۔ وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہی ہوگا کہ کار کی سواری کا ریٹ، اردو بولنے کا ریٹ، نکھرے کپڑے پہننے کا ریٹ اور ہاتھ میں دو موبائل فون پکڑنے کا ریٹ محض پچاس روپے ہی تو زیادہ بتایا، کہ اس نے بھی بچے تو پالنے ہیں۔

بچے۔۔ ہر طرف۔۔ بے تحاشہ۔۔ گھر کے فی اسکوائر کی گنجائش سے تجاوز کرتے بچے۔۔ ننگے بچے۔۔ گالیاں دیتے بچے۔۔ سکول سے ہٹائے، کاموں پر لگائے بچے۔۔ آخر اتنے آ گئے ہیں تو پالنے تو ہیں۔۔ کسی گاڑی والے کو پچاس زیادہ دینے سے کیا فرق پڑتا، یا کسی بیرونِ ملک سے اتری سواری سے اسی ملک کی کرنسی مانگتے آخر کیسی شرم۔

بچے غربت میں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال ہو بھی جائیں تو کیا! پالنے تو ہیں۔ آخر کس لیے پالنے ہیں؟ اس سوال کا........

© Daily Urdu