Astor Halqa, Aik Nazriye Ka Referendum
استور حلقہ، ایک نظریے کا ریفرنڈم
سیاست میں بعض انتخابات صرف نشستوں کا فیصلہ نہیں کرتے وہ قوموں کے مزاج عوام کے شعور اور مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں استور کے حلقہ 1 جی بی اے 13 کا حالیہ انتخاب بھی انہی انتخابات میں شمار کیا جائے گا بظاہر ایک امیدوار کامیاب ہوا اور دوسرا ہار گیا مگر اگر نتائج کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
شاہدہ خورشید صاحبہ نے سات ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے صرف ایک انتخاب نہیں لڑا بلکہ گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نئی حقیقت ثبت کر دی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ عوامی اعتماد کسی سرکاری منصب طاقت یا وسائل کا محتاج نہیں ہوتا اگر عوام کسی شخص کو اپنا نمائندہ مان لیں تو اسے سیاسی منظرنامے سے حذف کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ انتخاب اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ شاہدہ خورشید نے ایسے سیاسی خاندانوں اور شخصیات کا مقابلہ کیا جو برسوں سے اقتدار کے ایوانوں کا حصہ رہے ہیں اس کے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان پر اعتماد کیا۔
یہ اعتماد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی سیاسی جدوجہد اور عوام سے تعلق کا ثمر ہے ان کے حامی مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر سامنے آنے والے اعتراضات فارم 45 سے متعلق سوالات اور انتخابی عمل کی شفافیت پر اٹھنے والی آوازیں اس نتیجے کو متنازع بناتی........
