Kuch Na Suno To Behtar Hai
کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
آج کل ہر طرف ایک بڑا شور سنائی دے رہا ہے کہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر علمی حلقوں تک اسی ایک فتوے کی بازگشت ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں کرپٹو کرنسی کی تاریخ کو تب سے دیکھ رہا ہوں جب سے یہ نظام دنیا میں شروع ہوا تھا۔
اگر اس کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ قصہ شروع ہوتا ہے سال 2008 کے عالمی معاشی بحران (Global Financial Crisis) کے فوراً بعد، جب دنیا کا روایتی بینکنگ نظام بری طرح ہلا ہوا تھا۔ اکتوبر 2008 میں "ساتوشی ناکاموتو" (Satoshi Nakamoto) نامی ایک گمنام شخص یا گروپ نے انٹرنیٹ پر ایک مقالہ (Whitepaper) شائع کیا اور پھر 3 جنوری 2009 کو دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی یعنی "بٹ کوائن" (Bitcoin) کا پہلا بلاک (Genesis Block) تخلیق پایا۔ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسا آزاد معاشی نظام بنانا تھا جو کسی ملک، حکومت یا سینٹرل بینک کے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک یعنی بلاک چین (Blockchain) کے ذریعے خود کار طریقے سے چلے۔
جب یہ ٹیکنالوجی آئی اور لوگوں نے اس میں اندھا دھند پیسہ لگانا شروع کیا، تو میں نے اپنے بہت سے دوستوں کو اسی وقت سمجھایا اور یہ بتایا تھا کہ بھائی، فی الحال اس کی کوئی مادی اصل (Physical Backing) نہیں ہے، اس کا گراف بڑی تیزی سے اوپر نیچے جاتا ہے اور اس میں آپ کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ اس کے پیچھے موجود کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو تو ضرور سمجھیں، لیکن بغیر سوچے سمجھے اس میں کودنے سے گریز کریں۔
آج یہی بات ایک علمی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اگر دنیا کے بڑے بڑے شریعہ بورڈز، پاکستان میں مفتی تقی عثمانی صاحب کے فتاویٰ یا اس طرح کے جتنے بھی جید علماء کرام ہیں، ان کی آراء کا گہرا مطالعہ کریں تو تین بڑی اور ٹھوس وجوہات سامنے آتی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے فی الوقت کرپٹو کرنسی کو ناجائز یا حرام قرار دیا ہے:
کرپٹو کیوں حرام ہے؟ (علماء کے نزدیک تین بڑی وجوہات)
1۔ غرر (Gharar): یہ اسلامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، جس کا مطلب ہے "ایسا سودا جس کا انجام پوشیدہ، مبہم اور غیر یقینی ہو"۔ چونکہ کرپٹو کا کوئی مادی وجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کے........
