Sahafat Ke Liye Haqaaiq Ka Aaina Bardar Rehna Mumkin Nahi Raha
صحافت کے لیئے حقائق کا آئینہ بردار رہنا ممکن نہیں رہا
اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات کے اختتام پرامریکہ اورایران دیرپاامن کی راہ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ ناکامی کی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے مگرسوشل میڈیا پرچھائے گفتار کے غازی پاکستانی صحافیوں کی مسلسل تحقیر میں مصروف ہیں۔ نہایت حقارت سے پاکستانیوں کوبتایاجارہا ہے کہ ان کے صحافی بین الاقوامی امور کے بارے میں قطعی نابلد ہیں۔ انہیں دو ممالک کے مابین مخاصمت سے مصالحت کی جانب بڑھنے والے مذاکرات کی حرکیات سمجھنے کی تربیت میسر نہیں ہوئی۔ ویسے بھی یہ سرکار مائی باپ کے پالے "لفافوں" اورمنشیوں کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ صحافی ہونے کے دعوے دار ان بہروپیوں کی اوقات جان کران کی تحریروں اورخیالات پرتوجہ دینے میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔ عمر تمام صحافت کی نذرکردینے کے بعد موت کی جانب رینگتے ہوئے جوانی میں نہایت لگن اور چاہت سے اپنائے دھندے کی تحقیرنے چند لمحوں کو مجھے پریشان کیا۔ تھوڑی ہی دیرمیں لیکن احساس ہوا کہ پاکستانی صحافیوں کوتربیت سے محروم ہونے کے طعنے دینے والوں کی بے پناہ اکثریت کے لکھے طنزیہ جملوں کاایک فقرہ بھی اردویا انگریزی گرائمر کی مبادیات سے لاعلمی کا اشتہارہے۔ ایسے افراد کی باتوں کوسنجیدگی سے کیا لینا۔
مزید لکھنے سے قبل ہاتھ اٹھاکر اعتراف کرتا ہوں کہ پاکستان میں صحافت کی ساکھ اور وقارمسلسل تباہ ہورہے ہیں۔ ہمارے ہر نوعیت کے حکمرانوں کوچندمستثنیات کے سوا اس شعبے کی بڑھوتی کبھی منظورہی نہیں تھی۔ اختیارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے حکومتیں فقط سرکاری طورپرگھڑا "سچ" ہی فروغ دینا چاہتی ہیں۔ سرکاری سرپرستی کے بغیر صحافتی ادارے معاشی اعتبار سے خود مختار ہونہیں سکتے۔ صحافت کے لئے لہٰذا حقائق کا آئینہ بردار رہنا دن بدنش مشکل سے مشکل تر ہورہا ہے۔ یہ لکھنے کے بعد مگر یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ موت کیا فقط پاکستان ہی میں صحافت کا مقدرہوئی نظرآرہی ہے؟
ہمارے ہمسایے میں جو ملک ہے وہ خود کو آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بتاتے........
