Beqabu Hue Tayyare Ke Tabuk Utarne Tak Israel Ka Zehreela Propaganda
بے قابو ہوئے طیارے کے تبوک اترنے تک اسرائیل کا زہریلا پراپیگنڈا
ربّ کا صد بار شکر کہ دوبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں ہنگامہ ہوا تو مسافروں کی جان بچانے کے لئے اسے برادر ملک سعودی عرب کے شہر تبوک اتارنا پڑا۔ ربّ کا مزید کرم یہ بھی ہوا کہ مذکورہ طیارے کے کاک پٹ میں جھگڑا کرنے والے پائلٹ اور کو پائلٹ کی جانیں ابھی تک محفوظ ہیں۔ ان میں سے شدید زخمی ہوئے پائلٹ کی موت واقع ہوجاتی تو حقائق تک رسائی تقریباََ ناممکن ہوجاتی۔
مسافروں کی بحفاظت تبوک میں لینڈنگ اور بعدازاں خیروعافیت سے وطن واپسی کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم کی جانب سے سازشی بیانیہ سازی کا آغاز ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ موصوف اپنے سیاسی کیریئر کی ابتدا میں دائیں بازو کی حکمراں جماعت کے ترجمان ہوا کرتے تھے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا کی حرکیات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یک سطری فقروں کی مدد سے معجون فروشی کے ہنر میں یکتا۔ اہم ترین حقیقت یہ بھی نگاہ میں رکھنا ہوگی کہ رواں مہینے کی 27 تاریخ کو اسرائیل میں عام انتخاب منعقد ہورہے ہیں۔ نیتن یاہو کی کوشش ہوگی کہ اس کی جماعت ازخود اکثریت حاصل کرلے۔ واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھرنے کے نتیجے میں اسے ایک بار پھر بائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی مدد سے مخلوط حکومت بنانا پڑے گی۔ یہ جماعتیں حلیف ہونے کے باوجود اسے مسلسل تنقید کا نشانہ بنائے رکھتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ایران کے خلاف چھیڑی جنگ کے اہداف کے حصول میں ناکام رہا۔ الزام یہ بھی لگارہے ہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ہی نہیں چند عرب ممالک کی فراہم کردہ معلومات کے باوجود وہ گزشتہ برس کے اکتوبر میں حماس کی جانب سے ہوئے حملوں کی پیش بندی میں بھی ناکام ہوا۔
نیتن یاہوکے اقتدار........
