Qamar Javed Bajwa Ke General?
قمر جاوید باجوہ کے جرنیل؟
کچھ یوٹیوبرز ہی نہیں بلکہ صحافی نے بھی نجی محفلوں میں اپنی خفیہ معلومات کی دھاک بٹھانے کی کوششوں میں ہیں۔ پکے سے منہ بنا کے، آنکھیں گول گول گھما کے، ہاتھوں پر ہاتھ مار کے انکشافات کر رہے ہیں کہ اگست، ستمبر، اکتوبر بہت اہم ہیں جس میں سے اگست گزر چکا ہے۔ اہم کیوں ہیں، آپ کو علم ہی ہے کہ ان کی ساری کی ساری دانشوری اسی کے گرد گھومتی ہے کہ حکومت جانے والی ہے۔ ان کے پاس ہر وقت یہی انفارمیشن ہوتی ہے کہ کون سا جرنیل کون سی موو کر رہاہے جس کا ان کے سوا کسی دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔
میں نے بھی ایک محفل میں ایک ایسے ہی باخبر صحافی سے جان کی امان پاتے ہوئے پوچھ لیا، حضور کیا ہونے والا ہے، کچھ ہمیں بھی بتائیں۔ وہ اس پر زور دار انداز میں ہنسے اور بولے، ہونے والا نہیں ہے بلکہ ہو رہا ہے۔ تمہیں علم ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارہ جرنیل اکتوبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور انہوں نے گیم اٹھا دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا گیم اٹھائی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ تم سپریم کورٹ کی طرف سے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل میں لے جانے کا حکم اور سہیل آفریدی کی طرف سے ستائیس ستمبر کی کال کو سنجیدہ نہیں لے رہے، کیا یہ کسی کی پشت پناہی کے بغیر ہو رہا ہے۔ مجھ جیسے کم علم کے پاس ان کی اس دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا۔
میں نے اس بارے کچھ تحقیق کی، کچھ دوستو ں اور کچھ دشمنوں سے پوچھا، پتا چلا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی توسیع شدہ مدت ملازمت پوری ہونے سے کوئی ڈیڑھ ماہ قبل ایک درجن میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ ان افسران میں انعام حیدر ملک، فیاض حسین شاہ، نعمان زکریا، محمد ظفر اقبال، ایمن بلال صفدر، احسن گلریز، سید عامر رضا، شاہد امتیاز، محمد منیر افسر، بابر افتخار، یوسف جمال اور کاشف نذیر شامل تھے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ انتیس نومبر2022 کو ریٹائر ہوئے جبکہ یہ پروموشنز گیارہ اکتوبر کی گئیں۔ معاملات کو جاننے والوں........
