menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

PIA Ke Mamay

12 13
25.12.2025

اس وقت وہ لوگ پی آئی اے کے مامے بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں قومی ائیرلائن کی برطانیہ اور یورپ کے لئے پروازیں بند کروا دیں، جنہیں ہر کسی کی طرف صرف مغلظات بکنے کی عادت تھی انہوں نے وہی کام اپنے اداروں اور اپنے لوگوں کے ساتھ شروع کر دیا۔ اب چیخم دھاڑم ہے کہ پی آئی اے کو بہت سستا بیچ دیا مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے مہاطمع کے دور کی پالیسی بھی نجکاری ہی تھی۔

میرے سامنے16نومبر 2019، پانچ مارچ2020,29اکتوبر 2021 کے کئی اردو، انگریزی اخبارات کھلے پڑے ہیں جن میں اس وقت کے وزیراعظم نے نجکاری کو تیز کرنے کی ہدایت کی مگر ان سے کوئی بھی قابل ذکر ادارہ پرائیویٹائز نہ ہوسکا کیونکہ باتیں کرنا بہت آسان ہوتا ہے اور کام کرنا بہت مشکل۔ پی آئی اے کی نجکاری پر مجھے ان کے لئے اسی بابے کے قابل اعتراض لطیفے کو دہرانے دیجئے جس نے کہا تھا کہ ہُن شکایت ای لگے گی، ظاہر ہے جب آپ خود کچھ نہ کرسکتے ہو تو کرنے والوں کی شکایت ہی لگائیں گے اور جو آپ نے کیا وہ کتنا ذلت آ میز تھا کہ پی آئی اے کی یورپ اور برطانیہ سمیت بہت سارے ممالک کیلئے پروازیں بند کرواتے ہوئے اسے اربوں روپے سالانہ کے نقصان میں دھکیل دیا۔

یہی وجہ تھی کہ گذشتہ برس جب اس کی نجکاری کی کوشش کی گئی تو کوئی گاہک ہی نہیں آیا۔ اب دوبارہ نجکاری اس لئے ممکن ہوسکی کیونکہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کی مسلسل کوششوں سے یورپ کے لئے پروازیں کھلیں۔ آپ کو اس پر شرم تو نہیں آتی ہوگی؟

اعتراض کیا کہ نجکاری کیوں تو جواب ہے کہ حکومتوں کاکام کاروبار........

© Daily Urdu