Hogai Deal?
عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر حکومت نے نظرثانی کی اپیل کر دی ہے اور جب اس پر قانونی مشاورت ہو رہی تھی تو تین اہم ترین نکات اٹھانے کی تیاری ہو رہی تھی، پہلا یہ کہ کیا عمران خان کو واقعی ایسی کوئی بیماری ہے جس کی بنیاد پر اسے ہسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ تازہ ترین میڈیکل رپورٹس میں بانی پی ٹی آئی کو صرف بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی اور کہا گیا کہ انہیں بے چینی رہتی ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی آنکھ کا علاج ہوگیا ہے اور آنکھ اب نارمل ہو چکی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جیل میں ٹھیک ٹھاک کی قسم کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ابھی چند روز قبل پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری ان کو دئیے جانے والے کھانوں کی تفصیل بتا رہی تھیں تو میں سوچ رہا تھا کہ انہیں اپنی خوراک کنٹرول کرنی چاہئے کیونکہ ایسی خوراک سے تو اچھے بھلے بندے کا بلڈ پریشر ہائی ہو جائے گا۔ اگر ہم یہ دیکھیں کہ ایک شخص جس کی شہرت بڑھاپے تک پلے بوائے رہنے کی ہو اور جو ایک بڑی تعداد کا کرش رہا ہو اسے جیل میں رہنا پڑے گا تو اس کا فشار خون بلند ہی ہوگا۔
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کی عمر چوہتر برس ہو چکی اور ان سے ایک تہائی عمر چھوٹے لوگوں کو دیکھیں تو وہ ہمارے معاشرے میں شوگر اور معدے ہی نہیں بلکہ دل کے امراض میں بھی مبتلا نظر آئیں گے تو ایسے میں لگتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو تین برس سے جیل میں ایک بہترین ماحول اور غذا دستیاب ہے کیونکہ جیل میں ایک اچھا خاصا بندہ ذہنی مریض بن سکتا ہے، انہیں تو صرف معمولی بلڈ پریشر کی شکایت ہوئی........
