menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gandi Baat Hai, Magar Dhanda Hai

12 1
29.01.2026

میں نے اپنی زندگی میں ریاست کو بہت سی شکلوں میں دیکھا ہے۔ کبھی وہ طاقتور کے سامنے خاموش نظر آئی، کبھی کمزور کے سامنے سخت۔ کبھی عدالت کے فیصلے اخبارات میں سرخی بنے اور کبھی وہی فیصلے فائلوں میں دفن ہو گئے۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں قانون لکھا جاتا ہے، پڑھا جاتا ہے، مگر اکثر نافذ نہیں کیا جاتا۔ شاید اسی لیے یہاں ظلم بھی ضابطے کے ساتھ ہوتا ہے اور استحصال بھی قواعد کے مطابق۔

تعلیم کا شعبہ اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ ریاست کہتی ہے تعلیم ترجیح ہے، عدالتیں کہتی ہیں فیس کا استحصال غیر قانونی ہے اور والدین ہر ماہ فیس کی قطار میں کھڑے ہو کر یہ سوچتے ہیں کہ ترجیح اور حقیقت کے درمیان فاصلہ آخر اتنا زیادہ کیوں ہے۔ ہم نے تعلیم کو ایک نعرہ بنا لیا ہے، ایک وعدہ، مگر ذمہ داری نہیں بنایا۔

میں اکثر سوچتا ہوں ہم نے تعلیم کو اتنا مقدس کیوں بنا دیا ہے کہ اس پر بات کرنا بھی گناہ لگنے لگا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کچھ غلط ہو رہا ہے، مگر ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں، کیونکہ معاملہ "بچوں کے مستقبل" کا ہے۔ پاکستان میں یہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جہاں لُوٹ کو بھی خدمت کا نام دے دیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ لُٹنے والا بھی شکر ادا کرتا ہے۔

نجی سکول اور کالج آج پاکستان میں صرف تعلیمی ادارے نہیں رہے، یہ مکمل بزنس ماڈل بن چکے ہیں۔ ان کے بروشرز میں اخلاقیات، کردار سازی اور روشن مستقبل کی تصویریں ہوتی ہیں، لیکن ان کی اصل کہانی اکاؤنٹس آفس میں لکھی جاتی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جس میں ہر مرحلے کی قیمت ہے اور ہر........

© Daily Urdu