China Jaayen
چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے، دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو کھانا کھلانا یقیناََ مشکل کام ہے چناں چہ حکومت نے مختلف قسم کی فصلوں کے لیے مختلف علاقے مختص کر رکھے ہیں، گندم کے لیے 10 صوبوں کے 23 ریجن طے ہیں، ملک کی 35 فیصد گندم ہینان (Henan) اور انہوئی (Anhui) کے صوبوں میں پیدا ہوتی ہے جب کہ چیانگ سو (Jiangsu) اور شانزی (Shaanzi) میں 10 فیصد گندم اگائی جاتی ہے۔
اس سال جون میں اچانک انہوئی صوبے میں خوف ناک بارشوں کی پیش گوئی کر دی گئی، بارشیں تین دنوں میں متوقع تھیں، گندم کی فصل تیار تھی لیکن انہوئی کے کسان تین دن میں فصل نہیں سمیٹ سکتے تھے چناں چہ وہ بے بسی سے آسمان اور فصل کو دیکھنے لگے، کسانوں کی مجبوری کی یہ خبر میڈیا تک پہنچی اور یہ سن کر ہینان، شندونگ، چیانگ سو، سیچوان اور کنگ ہوئی صوبوں کے ہزاروں کسان اٹھے، اپنی اپنی مشینیں لیں اور انہوئی کی طرف نکل کھڑے ہوئے، ایک دن میں ساڑھے تین ہزار کسان اپنی مشینوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور لوکل کسانوں کے ساتھ مل کر تین دن میں ساری فصلیں سمیٹ دیں جس کے بعد جب بارشیں شروع ہوئیں تو نیچے کھلے میدانوں اور خالی کھیتوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، یہ ہے زندگی گزارنے کی چینی روایات یعنی اجتماعیت۔
چین میں حکومت کا عوام پر بے انتہا کنٹرول ہے اگر حکومت نے کہہ دیا تو پھر کوئی شخص حکم کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا مثلاً حکومت نے 1981 میں کزن میرج پر پابندی لگا دی، اس کی وجہ بیماریاں تھیں، سائنس ثابت کر چکی ہے کزن میرج سے ناقابل علاج بیماریاں پھیلتی ہیں چناں چہ چین میں کزن میرج بھی بین ہوگئی اور میڈیکل ٹیسٹ کے بغیر شادی پر پابندی بھی لگ گئی تاکہ بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے، عوام نے اسے من و عن مان لیا اور خلاف ورزی کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔
چین میں واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹیوب نہیں چلتے، چینی لوگ اس کی بھی پابندی کرتے ہیں، یہ وی پی این سے یہ تمام ایپس ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں کرتے، قانون کی یہ خلاف ورزی صرف غیر ملکی یا سیاح کرتے ہیں، چین میں ٹک ٹاک سب سے زیادہ پاپولر ہے اور پورا ملک اس کا ایڈکٹ ہے، آپ چین کے کسی کونے میں چلے جائیں آپ کو لوگ زمین پر اکڑوں بیٹھ کر ٹک ٹاک دیکھتے اور قہقہے لگاتے دکھائی دیں گے تاہم کام کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہے، دفتروں اور فیکٹریوں میں لاکرز بنے ہوئے ہیں، ورکرز اپنے موبائل فونز اور پرس ان میں رکھ کر کام شروع کرتے ہیں اور یہ اس کے بعد لنچ ٹائم اور چھٹی کے وقت فون دیکھ سکتے ہیں، کام کے دوران مکمل توجہ صرف کام پر رہتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے چین دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے، مجھے کسی دکان، شوروم یا فیکٹری میں لوگ موبائل فون میں گھسے ہوئے دکھائی نہیں دیے، صرف سیلز کے لوگ فون استعمال کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی انہیں کمپنی فراہم کرتی ہے، یہ ذاتی فون........
