Pehle Tv Walay Ghar Kon Kon Aata?
پہلے ٹی وی والے گھر کون کون آتا؟
کوئی بہت ہی بڑا عابد و زاہد ہی ہوگا جو یہ کہہ دے کہ اس نے بچپن میں کوئی فلم ہی نہیں دیکھی۔ پہلے پی ٹی وی پر اتوار کو دوپہر میں پاکستانی فلم آتی تھی جس کے لئے پہلے سے تیاریاں مکمل کر لی جاتیں۔ فوتگی کے علاوہ ہر پروگرام بعد کے لئے رکھ لیا جاتا۔ اکثر گھروں میں دوپہر کا کھانا پہلے ہی پکا لیا جاتا۔ گھر گھر ٹی وی نہیں تھا۔ اس لئے جس جس گھر میں ٹی وی ہوتا ہے۔ اس گھر کی عورتیں گھر کی اوپری صفائی پر دھیان دیتیں اور آنے والیوں کی اندورنی نظروں پر نظر رکھتیں۔
فلمیں دیکھنے کی شوقین لڑکیاں اور عورتیں جس عورت کے گھر ٹی وی ہوتا اس سے دوستی گانٹھ لیتیں۔ چھوٹے موٹے سلائی کڑھائی کے کام بھی کردیا کرتیں اور ساتھ ساتھ سنا بھی دیتیں۔
"ارے اس گھر کو تو ہم اپنا ہی گھر سمجھتے ہیں"۔
یہ تو چھوڑیں خاندان کے وہ رشتہ دار جو مہینوں سالوں میں منہ دکھاتے وہ بھی اتوار کو نہ صرف اپنا منہ لے آتے بلکہ دوپہر کا کھانا منہ تک بھر کے تناول کرتے۔ جہاں ٹی وی رکھا ہوتا اس کی اتوار کے لئے وی آئی پی صفائی ہوتی۔ گھر والی صفائی کرتے ہوئے بڑبڑاتی جاتی۔
"ایک تو شیطان کی آنت ٹی وی کیا گھر میں آیا ہے۔ روز روز کوئی نہ کوئی بہانے بہانے سے ڈرامہ دیکھنے چلا آتا ہے۔ گھر نہ ہوگیا سینما گھر ہوگیا"۔
بات صحیح تھی شام سے رات تک کوئی نہ کوئی ٹی وی والے گھر میں آدھمکتا۔ یہ میں آپ سے 70 کی دھائی کی باتیں کر رہا ہوں۔
ایک طرف ٹی وی والے گھر کی عورت صفائی ستھرائی کرتی تو دوسری طرف فلم دیکھنے کے لئے آنے والی بچیاں ٹافیاں، سپاریاں اور دیگر چیزیں رات یا پھر صبح صبح خرید کر رکھ لیتیں کہ فلم دیکھتے ہوئے چپکے چپکے کھائیں گے۔ سہلیاں کوشش کرتیں کہ ساتھ ساتھ بیٹھیں اور جہاں موقع ملے کھی کھی کرتی رہیں، ڈانٹ کھاتی رہیں۔ بچے اور جوانوں کے لئے نیچے سفید یا کسی اور رنگ کی چادر بچھا دی جاتی۔ بڑی عمر کے مرد و خواتین کرسیوں اور صوفہ پر براجمان ہوتے۔ ٹی وی والی فلم سے زیادہ یہ دیکھتی کہ آنے والی عورتوں (جن میں سے دو ایک آگ لگاوا ہوتیں) میں سے کس کی نظر گھر کے کس حصہ پر ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فلم کے بعد اس کے گھر کی ایک فلم چلنی ہے جس میں اس کے پھوڑپن کو فلم کی بڑی اسکرین کی........
