Kabhi Hum Milein Mulaqat Ho
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو
دہائیوں پہلے میں ڈاکٹروں کے ایک مخصوص ویزے پر تھا اور اس زمانے میں ریزیڈنسی پروگرام آپ کو ویزہ لگوانے کے کاغذات دیتا تھا جن کو لے کر آپ کو امریکہ کی سرزمین چھوڑنا ہوتی تھی اور اس کے بعد آپ کینیڈا سے امریکن ویزہ لگوا سکتے تھے۔ اس سے پہلے بھی میں کیوبیک سٹی سے ویزا لگوا چُکا تھا لیکن اس مرتبہ قرعۂ فال کینیڈا کے شہر وینکوور کے نام نکلا۔ جب میں ایمبیسی میں ویزا لینے پہنچا تو یہ کچھ اندازوں سے بھی آسان کام نکلا۔ چند ہی منٹوں میں ویزہ کا بتا دیا گیا لیکن میری امریکہ کی واپسی کی پرواز دو دن بعد کی تھی اور پرواز بدلوانا ایک انتہائی مہنگا کام ہو سکتا تھا۔ مجھے اپنی پرواز ہی کے دن کا انتظار کرنا پڑا۔ بیچ کا ایک دن فارغ تھا اور ایک مناسب سی رقم پر سیاحت کی ایک کمپنی نے ایک ایسے سیاحتی دورے کا ٹکٹ جاری کرتی تھی جو جاذب نظر وینکوور کے مضافات ایک ہی دن میں دکھا دیتی تھی۔
وینکوور ایک بہت مختلف جغرافیائی منظر نامہ رکھتا ہے۔ گھنے سیاہی مائل سبز درختوں سے برف سے ڈھکی چوٹیوں تک چند ہی گھنٹوں کا فاصلہ ہے اور بلاشبہ وینکوور دنیا کے دلکش ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اسی سیاحتی دورے کے دوران ہمیں ایک اسکئنگ ریزارٹ میں بھی لے کر گئے جو وینکوور کے مضافات کے خوشنما پہاڑی علاقوں میں تھا۔ اجنبی راستوں میں پھیلی اجنبیت مختلف سیاحوں کو آپس میں جلد مانوس کر دیتی ہے۔ بہت سے پس منظر دلکش چہروں کو دل آویز بنا دیتے ہیں۔ تعلیمی ادارے ہوں یا گھر کے آنگن۔ ساجن کی گلیاں ہوں یا جنگ کے میدان، بعض داستانیں صرف ہجر و حضر کے سیاق و سباق میں ہی لکھی جاتی ہیں۔ شہر دل کی گلیوں کے مسافر آنے والے وقت کی داستانیں لکھتے ہیں۔ ایک خاص پس منظر میں اور ایک خاص لمحے میں کسی ماہ گُل کا دل رُبا چہرہ زندگی ساتھ گزارنے کی خواہش دل میں یوں لے اترتا ہے کہ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں کی داستانیں نئے ناموں کے ساتھ رقم ہوتی ہیں۔ ہر شہزادی بدیع الجمال کا اپنا شہزادہ سیف الملوک ہوتا ہے۔۔
میرا عشق ہو تیری ذات ہو پھر حُسُن عشق کی بات ہو
کبھی میں ملوں، کبھی تو ملے........
