Roshani Ki Talash
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
کل رات جب بجلی گئی اور چاروں طرف تاریکی پھیل گئی، تو میں صحن میں خاموش بیٹھا اندھیرے کا سحر دیکھ رہا تھا۔ اسی تاریکی میں اچانک کچھ چھوٹے چھوٹے چمکتے ہوئے نقطے فضا میں تیرنے لگے۔ یہ اس موسم کے روایتی جگنو تھے جو بالکل بے نیازی سے اپنے وجود کی روشنی بکھیرتے ہوئے اڑ رہے تھے۔
ان جگنوؤں کو گھنٹوں تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے دیکھتے میرے ذہن میں خیال آیا کہ کائنات کے اندھیروں میں روشنی بکھیرنے کا یہ ہنر صرف ان چھوٹے حشرات تک محدود نہیں ہے۔ ہماری زمین اور بالخصوص سمندروں کی پراسرار گہرائیوں میں قدرت نے ایسے ایسے شاہکار چھپا رکھے ہیں جو خود روشن ہیں۔ جیلی فیش (Jellyfish)، اینگلر فش (Anglerfish)، بائیو لومینیسینٹ پلینکٹن (Bioluminescent Plankton) اور گہرے پانیوں کے چمکتے ہوئے کیکڑے، یہ سب بغیر کسی بیرونی ایندھن یا حرارت کے اپنے اندر سے روشنی خارج کرتے ہیں۔ سائنس اس عمل کو "بائیو لومینیسینس" (Bioluminescence) کہتی ہے، جہاں کیمیائی تفاعل (Luciferin اور Luciferase) سے 100 فیصد ٹھنڈی اور بے ضرر روشنی پیدا ہوتی ہے، جو ان جانداروں کے جسم کو ذرا سی بھی حرارت یا تکلیف دیے بغیر بالکل نارمل انداز میں کام کرتی ہے۔
سوچ کے اسی دھارے میں، میں جدید سائنس کے حیران کن تجربات کی طرف نکل گیا۔ سائنسدانوں نے قدرت کے اسی راز کو سمجھ کر جینیٹک انجینئرنگ اور CRISPR ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
چمکنے والے خرگوش: 2013 میں ترکی کی "استنبول یونیورسٹی" اور امریکہ کی "یونیورسٹی آف ہوائی" (University of Hawaii at Manoa) کے سائنسدانوں نے مشترکہ تجربے کے ذریعے جیلی فیش کے چمکنے والے پروٹین (GFP) کے جینز خرگوش کے ایمبریو میں داخل کیے۔ اس کے نتیجے میں ایسے خرگوش پیدا ہوئے جو اندھیرے میں الٹرا وائلٹ روشنی کے نیچے واضح طور پر سبز رنگ میں چمکتے ہیں۔
چمکنے والے........
