menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Theater Of Absurd

11 0
yesterday

سولھویں صدی کے شیکسپیئر سے کہیں پہلے، چھٹی صدی کے بھرتری ہری نے کہاتھا کہ دنیا رنگ بھومی یعنی ڈرامے کا سٹیج ہے۔ لیکن یہ کہیں بیسویں صدی کی پانچویں وچھٹی دہائی میں (سیموئیل بیکٹ، یوجین آئنیسکو، آرتھرایڈاموف کی وساطت سے) کھلا کہ دنیا کے سٹیج پر جو ڈراما کھیلا جارہا ہے، وہ اپنی اصل میں ابسرڈ ہے، لغو، معنی ومقصد سے تہی، مضحکہ خیز ہے، بلکہ جس کے بارے میں کوئی رائے دینا اس لیے مشکل ہے کہ رائے ایک معنی ہے اور یہ معنی سے تہی ہے۔

یہ کوئی سیدھے سادے پلاٹ کا، سادگی سے پیچیدگی اور کلائمیکس کی طرف بڑھتا ڈراما اور کہانی نہیں ہے۔ اس کی کہانی کہیں سے بھی شروع ہوسکتی ہے اور کہیں بھی ختم ہوسکتی یاکبھی ختم نہ ہونے کا اعلان کرسکتی ہے۔

المیہ اور طربیہ ڈراموں کے برعکس، ابسرڈ کہانیوں کے کرداروں کا کوئی ایک چہرہ ہے، نہ شروع سے اختتام تک ایک ہی قسم کا کردار ہے، نہ کوئی ایک شخصیت۔ وہ کئی صورتیں رکھتے ہیں اور کئی صورتیں بدل سکتے ہیں۔

ایک لمحے میں آقا وغلام نظر آنےوالے، اگلے ہی کسی لمحے میں غلام وآقا دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہی نہیں، کچھ وقت کے بعد یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان میں واقعی کون حاکم اور کون اس پر کلی اختیار رکھنے والا ہے۔ ایک گلی میں چلتے پھرتے دکھائی دینے والے مرد اور عورت پر اچانک یہ راز کھل سکتا ہے کہ وہ تو میاں بیوی ہیں اور وہ مل کر رہنا شروع کر دیتے ہیں مگر پھر کسی وقت راز کا یہ کھلنا، محض ایک خواب سمجھا جاسکتا ہے۔

ایک وسیع ہال میں برپا جشن میں شریک افراد کو ساتھ والے کمرے میں موجود لاش ایک عظیم الجثہ عفریت میں بدل کر، پل بھر میں روند سکتی ہے اور پھر خود ہی ایک کچلی ہوئی سوکھی کلی کی مانند دکھائی دے سکتی ہے۔

خالی کرسیوں پر ایک سلطنت کا نظام چلانے کی انتہائی سنجیدہ کوشش دکھائی جاسکتی ہے۔ کچھ کرداروں کے چہروں پر تین تین ناکیں ہوسکتی ہیں اور دیکھنے والے انھیں یوں دیکھتے ہیں کہ جیسے یہ سب معمول کی بات ہو۔

یہ کردار آدمی سے گینڈے، بندر یا حشرات یا عفریت، کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ سور آدمی بن سکتے ہیں اورآدمی کی مانند باقاعدہ حکمرانی کر سکتے ہیں۔ یعنی سامنے کی سیدھی سادی سچائیوں کو فریب و التباس کے سو پردوں میں یوں لپیٹ دیتے ہیں کہ لوگوں کا یقین ہی اٹھ جاتا ہے کہ سچائی نام کی کوئی چیز وجود رکھتی ہے۔

یہاں تک کہ خود حکمرانی، ایک سیدھی سادی سچائی کے بجائے، ایک عظیم فریب میں بدل سکتی ہے، جس کا تجربہ نہیں کیا جاسکتا، جس پر صرف بحثیں کی جاسکتی ہیں، طویل اور لا یعنی بحثیں۔ تھیئٹر آف دی ابسرڈ کے کرداروں کوجس مکاں یا مقام پر کردار ادا کرتے دکھایا جاتا ہے، وہ جانا پہچانا بھی ہوسکتا ہے اور یکسر اجنبی بھی۔

اور اس جگہ کا کردار وں کے عمل اور شخصیت سے مناسبت رکھنا بھی ضروری نہیں۔ ایک عظیم الشان دربار کسی چوراہے میں سجا دکھایا جاسکتا ہے اور ایک عام سے ٹی سٹال کی ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر، دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے بیٹھے دکھائی دے سکتے ہیں، جن کے چہرے ضروری نہیں کہ انسانوں کی مانند ہوں۔

اس تھیٹر کے کردار جس گھڑی کو دیکھ کر اپنے امور انجام دیتے ہیں، وہ بارہ ہندسوں پر ختم نہیں ہوتی، اس پر سترہ تک ہندسے ہوسکتے ہیں۔ ان کی گھڑیاں گول ہوتی ہیں نہ مربع، وہ ٹیڑھی میڑھی، پگھلی ہوئی بھی ہوسکتی ہیں اور اس سے انھیں کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔

اسی طرح ان کے مکالمے جس زبان میں ہوتے ہیں، لازم نہیں کہ وہ مرصع ہو، یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ بالکل سادہ ہو۔ یہ بھی شرط نہیں کہ وہ کتابی ہو یا تخلیقی۔ اس کی بھی قید نہیں کہ وہ اشرافی ہو یا عوامی۔ وہ ایک ایسی زبان ہوسکتی ہے، جس کا مقصد، خود زبان کے بنیادی مقصد ابلاغ کی لغویت کو نمایاں کرنا ہو۔

ایک مستری اٹھاروی صدی کی کسی مستند لغت کا کوئی صفحہ پڑھ کر، اپنا مدعا بیان کرنے کی سعی ایک ایسے انداز میں کرسکتا ہے کہ خود اس کی سعی اس کا ٹھٹھا اڑا رہی ہو۔ ایک عورت کھانے کی ترکیبیں بتانے کے لیے کسی دوسری صدی کی خاتون کے عاشقانہ خطوط سے اقتباسات پڑھ سکتی ہے۔

کسی بھی لمحے، کوئی بھی زبان بولی جاسکتی ہے کہ ابسرڈ ڈرامے کی منطق کی رو سے، ہر زبان، ابلاغ کےعمل ہی کو لغو بناتی ہے۔

تھیٹر آف دی ابسرڈ کا قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ یہ قصہ وہاں تک جاتا ہے، جہاں تک انسان کی عقلی و منطقی دنیا کے سب قوانین کو ایک لمحے میں معطل کیا جاسکتا ہے، جہا ں تک سماجی دنیا کو یکجا رکھنے والے جملہ عناصر کی تنسیخ، بے خوف و خطر، کی جاسکتی ہے۔

جہاں تک کئی انسانی نسلوں کی شبانہ روز محنت سے وضع کیے گئے معاشرتی معاہدوں کو ایک لمحے سے بھی کم وقت میں منسوخ کیے جانےکا منظر دکھایا جاسکتا ہے۔

اور جہاں تک طبیعی دنیا کے سب قوانین کومعطل کیا ہوادکھایا جاسکتا ہے اور جہاں تک معلوم ومانوس دنیا کی ایک ایک چیز اور اس کی ترتیب کو اسی طرح تلپٹ کیا جاسکتا ہے، جس طرح ایک ڈراؤنے خواب (nightmare) میں کوئی عفریت کرتا ہے!


© Daily Urdu (Blogs)