Do Qaumi Rawaiye
قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔
ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان "دو قومی رویّے" رکھا گیا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔
بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا........
