menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zardari, Establishment Ke Naam Par Jhagra Hai Kya?

25 0
07.05.2026

زرداری، اسٹیبلشمنٹ کے نام پر جھگڑا ہے کیا؟

مجھے تو سمجھ یہ آتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک تو وفاقی افسر شاہی کے پاس وہ فنڈز اور وسائل نہیں ہیں جن کو وہ مرکز کے نام پر اصل مرکزی اور پنجاب کے بیوروکریٹک ڈھانچے اور پنجابی حکمران اشرافیہ پر خرچ اور استعمال کرتی تھی۔ اس میں سے کچھ حصہ پنجاب کی بالائی اور زیریں متوسط طبقے اور اس کی تلچھٹ پنجاب کے شہری اور دیہی غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے نکل آتا تھا۔ گویا مرکز کے پاس جو اختیارات، ٹیکسیشن اور ہیلتھ، تعلیم جیسے شعبے کنکریٹ لسٹ میں تھے ان سے بھی وسائل کا رخ پنجاب کی طرف موڑنے میں مدد ملتی تھی۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا راستا ملا ہے۔ اس وقت سندھ وسائل اور محصولات کے میدان میں پنجاب سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ اس کے پاس گیس کے 75 فیصد ذخائر ہیں۔ اس کے پاس کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ ونڈ پاور کا خزانہ اس کے پاس ہے۔ اس کے موسمی حالات اس کی زراعت اور فصلوں کو سپورٹ دے رہے ہیں اور سندھ کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے۔ صرف گندم، کپاس، چاول، گنا جیسی چار کیش کراپ کو لیں تو سندھ میں ان کے معاملے میں استحکام ہے۔ اس بنیاد پر سندھ میں کاٹن اینڈ جننگ، اسپننگ، لائیو اسٹاک، رائس انڈسٹری، شوگر انڈسٹری میں استحکام اور ترقی نظر آ رہی ہے۔ انرجی سیکٹر کو لیں تو تھر کول پاور انڈسٹری، فرٹیلائزر انڈسٹری، ونڈ پاور انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔

سندھ میں تجارت بھی استحکام اور بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ سندھ نے ہیلتھ اور تعلیم کے سیکٹر میں بھی کافی ترقی کی ہے۔ سندھ اپنی پاور اینڈ ڈسپیچ ٹرانسمیشن کمپنی، اپنی انرجی کمپنی بنا چکا ہے۔ سندھ حکومت پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سندھ میں حیدرآباد، سکھر اور کے الیکٹرک تک پر نظر لگائے بیٹھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سندھ میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم و ترسیل دونوں اس کے سپرد کردی جائیں۔ وہ اس صورت میں سستی بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ اگر ہم دوسری طرف پنجاب میں نظر دوڑائیں تو آبادی کا بے تحاشا دباؤ ہے۔

پنجاب میں جو بمپر کیش کراپس گندم، چاول، گنا، آلو اور کپاس ان چاروں فصل اگانے والے کسانوں کی حالت بہت بری ہے۔ چھوٹے کسان کی حالت کو تو رہنے ہی دیں متوسط اور بڑے زمینداروں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اندازہ کریں کہ پنجاب کے خزانے میں 87 فیصد کا تعلق وفاق سے ملنے والے فنڈز، گرانٹس اور قرضوں پر مشتمل ہے جبکہ مشکل سے 17 فیصد ٹیکسز اور نان ٹیکسز سے حاصل ہوتا ہے اور اس پر کمرشل بینکوں سے لیے جانے والے بھاری قرضے الگ سے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت جو پاور پلانٹس ہیں ان کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ ہو یا حویلی فاضل پاور پلانٹ ہو سب کے سب بحران کا شکار ہیں۔ درآمدی کوئلے نے ان کو بہت مہنگے پروجیکٹس میں بدل دیا ہے۔ قائد اعظم سولر پاور پلانٹ بہت کم بجلی پیدا کر رہا ہے۔

پنجاب میں اس وقت کاٹن اینڈ جننگ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں سینکڑوں یونٹس کے آپریشن بند ہوگئے ہیں۔ یہ پرائمری، مڈل اسکول بند کر رہے........

© Daily Urdu (Blogs)